حکومت نے امریکی ٹیک کمپنی اسٹارلنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس دینے کے عمل کو روک دیا ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ سٹار لنک کو لائسنس کی منظوری دینے سے قبل ڈیٹا سیکیورٹی، نگرانی کے مسائل میں احتیاط کرنا چاہتی ہے۔موجودہ صورتحال میں صارفین کے ڈیٹا کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
یہ بات علم مین آئی ہے کہ اسٹارلنک کچھ ڈیٹا پاکستان کی نگرانی اور حفاظتی چیک پوائنٹس کو بائی پاس کرتے ہوئے بھیج سکتا ہے،
ڈی جی لائسنس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ اگر اسٹار لنک یا کوئی بھی اور کمپنی لو آرتھ آربٹ میں سیٹلائٹ سروس فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے باقاعدہ درخواست دینا ہوتی ہے۔
اس مقصد کے لیے حکومت نے 2022 میں ایک پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے بعد اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ قائم کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسٹار لنک کا کیس بورڈ کے پاس ہے اور وہ مختلف تکنیکی مراحل میں اس کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔‘
عامر شہزاد کے مطابق اسٹار لنک کے حوالے سے فی الحال کسی قسم کے خدشات موجود نہیں ہیں۔ نہ تو اسٹار لنک کو اب تک کوئی لائسنس جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے آپریٹ کرنے سے روکا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹار لنک کے علاوہ بھی کئی دیگر بین الاقوامی کمپنیاں ہیں جو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے لیے اپلائی کر چکی ہیں، ان سب کے کیسز زیرِ غور ہیں۔
’جب یہ طے ہو جائے گا کہ کوئی کمپنی پاکستان میں کس آربٹ سے گزرے گی اور کہاں آپریٹ کرے گی، تو اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ اس کو کلیئرنس دے گا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی حال ہی میں اسٹار لنک کے پاکستان کے سی ای او سے بات ہوئی ہے، جنہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ کی جانب سے مانگی گئی تمام شرائط اور دستاویزات مکمل کررہے ہیں۔
واضع رہے کہ اسٹار لنک کی تیسری نسل کی ٹیکنالوجی ہے جو مقامی گراؤنڈ اسٹیشنز کے بغیر بھی کام کر سکتی ہے اور سیٹلائٹ میش کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے کنیکٹ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے

