سائنس دانوں نے مریخ پر انسانوں کے اترنے کے لیے سب سے موزوں مقام کی نشاندہی کر لی ہے، جو سرخ سیارے پر انسانی مشن اور مستقبل کی آبادکاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف مسیسیپی کے سائنس دانوں نے کی، جنہوں نے مریخ پر بھیجے گئے اب تک کے سب سے طاقتور کیمرے HiRISE کی مدد سے سطحِ مریخ کی باریک ترین تفصیلات کا مطالعہ کیا۔
تحقیق کے مطابق مریخ کے درمیانی عرض البلد میں واقع خطہ ایمازونِس پلینیشیا (Amazonis Planitia) کو مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے سب سے موزوں مقام قرار دیا گیا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ علاقہ مثالی خصوصیات رکھتا ہے، جہاں شمسی توانائی کے لیے مناسب مقدار میں سورج کی روشنی موجود ہے، درجہ حرارت اتنا کم ہے کہ سطح کے قریب پانی کی برف (واٹر آئس) محفوظ رہ سکتی ہے۔ یہ دونوں عناصر انسانی مشن کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور ماہرِ سیارگیات ایریکا لُوزی کے مطابق اگر ہمیں انسانوں کو مریخ پر بھیجنا ہے تو پانی صرف پینے کے لیے نہیں بلکہ ایندھن، آکسیجن اور دیگر بے شمار ضروریات کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سطح کے قریب موجود پانی کی برف خلا بازوں کو پینے کا پانی، سانس کے لیے آکسیجن اور راکٹ ایندھن تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ بھی پرھئیے
پی آئی اے دنیا کی واحد ائیر لائن جس نے ماضی میں منفرد ریکارڈ بنائے – urdureport.com
محقق جیاکومو نودجومی نے کہا کہ چاند کے لیے زمین سے رسد لانے میں صرف ایک ہفتہ لگتا ہے، لیکن مریخ کے لیے یہ سفر مہینوں پر محیط ہوتا ہے، اس لیے ہمیں طویل عرصے تک زمین سے مدد کے بغیر رہنے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سانس کے لیے آکسیجن اور پینے کے لیے پانی سب سے اہم وسائل ہیں، اور یہی چیز ہمارے منتخب کردہ لینڈنگ مقام کو غیر معمولی طور پر امید افزا بناتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ حتمی تصدیق کے لیے روبوٹک روور یا انسانی مشن کے ذریعے نمونے جمع کرنا ضروری ہوگا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ برف واقعی خالص پانی پر مشتمل ہے یا کسی اور مادے کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
جیاکومو نودجومی کے مطابق ہمارے پاس مضبوط شواہد ہیں کہ یہ پانی کی برف ہے، لیکن جب تک ہم وہاں جا کر براہِ راست پیمائش نہیں کریں گے، ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مریخ پر انسانی قدم رکھنے اور مستقل موجودگی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ہے۔

