تحریر طارق اقبال چوہدری

بابا گرو نانک (1469ء–1539ء) سکھ مت کے بانی اور دس گرووں میں سے پہلے گرو تھے جنہو ں نے ایک خدا، مساوات، بھائی چارے اور نیکی کا پیغام دیا۔ ان کی تعلیمات نے ذات پات کے فرق کو ختم کیا اور انہوں نے سادگی، ایمانداری اور انسانیت سے محبت پر زور دیا۔
بابا گورونانک دیوجی کے ابتدائی ایام

بابا گورونانک دیوجی۔ بابا نانک موجودہ ننکانہ صاحب میں 15اپریل 1469ء میں پیدا ہوئے اس قصبہ کو رائے بھوی نے آباد کیا تھا جسے رائے بھوی دی تلو ندی کہا جانے لگا تاہم بعد میں بابا صاحب کے پڑپوتے نے جب ابتدائی گوردوارہ تعمیر کرایا تو اس کا نام ننکانہ صاحب پڑگیا۔
گرو نانک نے جب ہوش سنبھالا تو انہیں ایک ہندو استاد کے پاس حساب اور مسلمان استاد کے پاس عربی اور فارسی پڑھنے کے لیے بھیجا گیا لیکن ان کا دھیان پڑھائی کی طرف کم ہی تھا۔ انہوں نے قریبی جنگل میں جا کر سادھوؤں اور مہاتماؤں کی صحبت اختیار کی۔
بابانانک کے والد کا نام مہتا کالو اور والدہ کا ماتا ٹرپٹا (Tripta) تھا دونوں ہندو کھتری تھے۔ والد پٹواری تھے اور تلوندی گاؤں میں فصل کی آمدن کا حساب کتاب رکھتے تھے۔ بابا نانک کی ایک ہی بڑی بہن بی بی ناناکی تھیں جو بیاہ کر سلطان پور چلی گئیں، وہاں ان کے شوہر بھاتی جے رام سلطنت دہلی کے گورنر دولت خان کی سرکار میں ملازم تھے وہیں انہوں نے بابا نانک کو ملازمت دلا دی اور وہ وہاں 1500ء تک مقیم پذیر رہے۔ بابا نانک نے وہیں ایک خاتون سلیخانی سے شادی کی جس سے 2 بچے ہوئے جن کے نام سری چند اور لکشمی چند ہیں۔
بابا گورونانک دیوجی اور روحانیت
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ بابا گورو نانک میں بچپن سے ہی روحانیت غالب تھی۔ وہ اپنی ذات اور دوسرے انسانوں کے وجود اور افادیت پر غور و فکر اور گیان کرتے تھے۔ شروع سے ہی دوسرے انسانوں کی بھلائی کرنا اور خصوصاً بھوکوں کو کھانا کھلانا اور بے لوث خدمت کرنا اور نیک اعمال کرنا بابا نانک کی شخصیت کی پہچان بنے۔
بابا گورونانک نے بے شمار سفر کیے جنہیں Udasis کہا جاتا ہے۔27 سال کی عمر سے یہ سفر شروع کیے اور انڈیا کے مختلف شہروں تبت اور عرب ممالک گئے۔ بالخصوص ہندوؤں اور مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر وقت گزارا جن شہروں کا ذکر تاریخ دانوں نے کیا ہے وہ تبت ، مکہ، بغداد، اٹل بٹالہ، ملتان، یروشلم، ویٹیکن سٹی، آذر بائیجان، بنگال میں واقع سلہٹ، ماؤنٹ سمیرا، ایودھیہ ہیں۔ ان میں سے کچھ مقامات کے سفر کی روایات غیرمستند ہیں لیکن یہ طے ہے کہ بابا نانک نے تقریباً 28000 کلو میٹر کا فاصلہ زیادہ تر پیدل یا سواری کے ذریعہ طے کیا۔
معروف تاریخ دان سجاد اظہر اپنے ارٹیکل میں لکھتے ہیں کہ نانک جی مردانے کے ساتھ (جو ان کا مرید ہوا تھا اور رباب بجایا کرتا تھا)ساتھ لیا اور جنگل کی طرف چل پڑے۔ جنگلوں، آبادیوں میں گھومتے رہے۔ ان کا نام اب ’گرو‘ کے نام سے مشہور ہو چکا تھا۔ وہ جگہ جگہ معجزے دکھاتے۔ جب وہ ہندوؤں کےمرکز ہردوار پہنچے تو یہاں گنگا میں ہندو نہا رہے تھے اور پانی مشرق کی طرف اچھالتے تھے۔ جب نانک جی نے اس کی وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ یہ پانی مرنے والے بزرگوں کو دیا جا رہا ہے تاکہ ان کی زندگی آسودہ اور ٹھنڈی رہے۔ یہ سن کر نانک جی نے پانی مغرب کی طرف اچھالنا شروع کر دیا۔ لوگ ہنسے کہ کیا کبھی کسی نے مغرب کی طرف بھی پانی اچھالا ہے تو نانک جی نے جواب دیا کہ ’میرے کھیت یہاں سے مغرب کی طرف پنجاب میں ہیں، میں ان کو یہاں سے پانی دے رہا ہوں۔‘ لوگ کہنے لگے کہ ’اتنی دور سے دیا ہوا پانی آپ کے کھیتوں کو کیسے سرسبز کرے گا؟‘ جس پر گرو نانک نے کہا کہ ’اگر آپ کا دیا ہوا پانی دوسری دنیا میں پہنچ سکتا ہے تو کیا میرا پانی اس دنیا میں میرے کھیتوں کو سرسبز نہیں کر سکتا۔‘
بابا گورونانک دیوجی اور بابر
کہتے ہیں کہ بابر جب ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور اس نے پنجاب کو تہہ تیغ کیا تو ایمن آباد میں جو جنگی قیدی بنائے گئے، ان میں گرو نانک اور مردانا بھی تھے۔ گرو نانک کو چکی پیسنے پر لگا دیا گیا۔ بابا جی بلند آواز میں کلماتِ حق کہتے اور بخوشی اپنا کام کرتے۔ جب یہ خبر بابر کو ملی کہ ایک فقیر اپنی بیگار بھگتتے ہوئے خوشی اور احسان مندی کے ساتھ ناچتا ہے تو بابر نے کہا کہ میں ایسے فقیر کا دیدار کرنا چاہتا ہوں۔ جب بابا گرو نانک کو پیش کیا گیا تو بابر نے کہا کہ ’میں نے بے خبری میں اللہ کے ولی کو دکھ پہنچایا ہے، میں اس کی معافی مانگتا ہوں۔ میں نے لودھی خاندان کے مظالم سے لوگوں کو نجات دلانے کے لیے ہندوستان پر حملہ کیا ہے۔‘
گرو نانک نے جواب دیا کہ ’اگر آپ نے بھی رعایا پر ظلم کیا تو آپ کا بھی یہی انجام ہوگا۔‘ جس پر بابر نے کہا کہ ’میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں معصوموں کو کبھی نہیں ستاؤں گا۔‘ گرو نانک نے کہا کہ ’خدا تمہارا راستہ روشن اور منور کرے۔‘ یہ کہہ کر وہاں سے چل دیے۔

بالآخر 55 سال کی عمر میں بابا نانک کرتارپور میں آباد ہوگئے۔ کھیتی باڑی کے کام سے منسلک رہے۔ اس دوران چھوٹے چھوٹے سفر کیے اور اچل میں ناتھ یوگی، پنجاب میں ملتان اور صوفیا کے مزارات تک گئے۔ کرتارپور ان کا مرکز رہا یہیں سکھ مذہب کی باقاعدہ بنیاد پڑی۔ سکھ مذہب کے عقائد تصورات یہیں واضح ہوئے۔ بابا نانک نے سکھ پیروکاروں کو منظم کیا اور بالآخر یہیں ستمبر 1539ء کو وفات پائی۔
بابا گورونانک دیوجی کی تدفین کا معجزہ
تاریخ دان سجاد اظہر اپنے آرٹیکل میں مزید لکھتے ہیں کہ گرو نانک نے جب تبلیغ کا سفر ختم کیا تو انہوں نے اپنے آخری سال کرتارپور میں گزارے۔ یہاں ہزاروں لوگ ان کا دیدار کرنے آتے۔گرو نانک نے کئی آزمائشیں لینے کے بعد اپنی گدی بھائی لہنا کو سونپ دی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندان اور خادموں کو جمع کیا اور خدا کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر تمام مجمعے نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں بابا گرو نانک مراقبے میں چلے گئے اور اسی حالت میں ان کا وصال ہوا، جس کے بعد ان کے ہندو اور مسلمان مریدوں میں جھگڑا ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئیے
گرو نانک ایکسپریس وے مذہبی سیاحت کا آغاز ،فائیو سٹار ہوٹل سمیت جدید سہولیتیں – urdureport.com
مغلوں کا شاہی محلہ جہاں آج لاھور کے باسی "کھانوں کے اڈوں” پر لطف دوبالا کرتے ہیں – urdureport.com
مسلمان مرید کہتے تھے کہ ہم ان کو دفنائیں گے، ہندو کہتے کہ وہ اپنی رسم کے مطابق ان کا سنسکار کریں گے۔ آخر میں دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ دونوں اپنے اپنے پھول ان کے جسم پر رکھ دیں۔ صبح جس فریق کے پھول نہ مرجھائیں وہی ان کے جسم کا وارث ہو گا۔ صبح ہوئی تو دونوں فریقین کے پھول تازہ تھے اور مہک رہے تھے لیکن جب چادر ہٹائی گئی تو بابا گرونانک کا جسم غائب تھا۔
گرو نانک کی تعلیمات سکھوں کی متبرک کتاب گرو گرنتھ میں موجود ہیں۔ یہاں پر ان کی 974 منظوم نظمیں موجود ہیں۔

کرتارپور میں واقع گوردوارہ دربارصاحب کو سکھ مت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور یہ عالمی شہرت کا باعث ہے۔ سکھ یاتری یہاں دوردراز سے کھنچے آتے ہیں۔ یہاں اور اردگرد کے علاقوں میں سکھوں کی آبادی کافی تیزی سے بڑھی۔ تاہم 1947ء کی تقسیم کے بعد سکھوں کی کثیر تعداد مشرقی پنجاب میں آباد ہوگئی۔ اس وقت یہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ پنجاب میں سکھوں کی آبادی تقریباً 16 ملین کے لگ بھگ ہے۔
سکھ مذہب: یہ جاننا بیشتر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہوگا کہ سکھ مذہب کا بنیادی عقیدہ وحدانیت یعنی ایک خدا ‘اک انکر’ ہے۔ بابا نانک نے اس امر کا پرچار کیا کہ خدا ہر انسان کے دل میں موجود ہے اور ایک سچے سکھ کو اس کی موجودگی اپنے دل میں محسوس کرنی چاہیے۔ بابا نانک کی تعلیمات تین اعمال یا احکام پر مشتمل ہے۔
نمبر1’وندشکو’ یعنی شیئر کرو یا دوسروں میں بانٹو اور مل بانٹ کر استعمال کرو، نمبر2 ‘کرت کرو’ دیانت داری سے کام کرو اور دھوکا فریب سے دور رہو، نمبر3 ‘ نام جیو’ یعنی خدا کا نام لو اس کی موجودگی محسوس کرو اور انسان کے اندر جو 5چور چھپے بیٹھے ہیں ان پر قابو پاؤ۔
سکھوں کے پانچ کاف
سکھوں کے لیے 5 کاف یا پانچ نشانیاں ہیں جو کہ بال نہ کاٹنا، لکڑی کا کنگھا، ہاتھ میں اسٹیل کنگن پہننا، کاٹن کا جانگیہ پہننا اور اسٹیل کی تلوار یا کرپان ہیں۔
سکھوں کی سالانہ معروف تقریب بیساکھی یا ویساکھی کا میلہ ہے جو ہر سال 13یا 14 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ یہ پنجاب میں موسم بہار کا ہار ویسٹ میلہ بھی ہے اور نئے شمسی سال کا آغاز بھی ۔ دنیا بھر میں سکھوں کی تعداد تقریباً 30 ملین ہے، سب سے زیادہ تعداد بھارت کے مشرقی پنجاب میں ہے۔
آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک کینیڈا ہے جہاں تقریباً 12لاکھ سکھ آباد بتائے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ سکھ برٹش کولمبیا میں ہیں۔ اس کے بعد اونٹاریو اور ابرٹا میں موجود ہیں۔ اگر شہروں کی بات کی جائے تو سرّے، بریمپٹن، کیلگری اور ایبٹ فورڈ میں ان کی اکثریت آباد ہے۔
کینیڈا کے تمام اسکولوں میں ماہ اپریل کو سکھ ورثہ کا درجہ دیا گیا ہے۔ بیساکھی کا میلہ پورے کینیڈا میں جہاں سکھوں کی اکثریت ہے بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ 2018ء میں Surreyکے شہر میں بیساکھی کا میلے میں5 لاکھ کے قریب سکھ پیروکار شریک ہوئے، امریکا میں سکھوں کی تعداد 5 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ان کی زیادہ تر آبادی کیلیفورنیا میں ہے اور پولیس میں ان کو پگڑی باندھنے کی سرکاری اجازت ہے۔ تقریباً 5 لاکھ سے زیادہ سکھ برطانیہ میں آباد ہیں۔ تاہم دنیا کے تمام ممالک میں سکھ موجود ہیں جیسے ملائیشیا، وسطی ایشیا، آسٹریلیا وغیرہ۔

