شمالی کوریا کی طرف سے بیلسٹک میزائل تجربات کے بعد خطے میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں خطے میں پیدا ہو نے والی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس وقت ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) کے سربراہی اجلاس کی تیاریاں بھی جاری ہیں، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنما شرکت کریں گے۔
شمالی کوریا نے نے بدھ کی صبح دارالحکومت پیونگ یانگ کے جنوبی علاقے سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے کئی بیلسٹک میزائل فائر کیے، جس کی تصدیق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کی ہے۔ یہ میزائل تقریباً 350 کلومیٹر کی دوری تک شمال مشرقی سمت میں فائر کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کا فائر کیا جانا جنوبی کوریا کی نئی حکومت کے لیے ایک آزمائش ہے ۔ جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ کی طرف سے جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا کی طرف سے کیا جانے والا یہ پہلا میزائل تجربہ ہے اور ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی کوریا کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
کولمبیا کے صدر پر منشیات فروشی کا الزام ، ٹرمپ گمراہ کن ،کولمبیا – urdureport.com
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق اس میزائل تجربے کے بعد قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

