شہد قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جو نہ صرف ذائقے میں لذیذ ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتا ہے۔یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ شہد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسمانی بیماریوں کے علاج کے طور پر بہترین قدرتی دوا قرار دیا ہے۔
اگرچہ شہد کی کئی اقسام دستیاب ہیں، مگر پانچ ایسے شہد ہیں جن کی خوبیوں اور فوائد کو قدیم اور جدید طب دونوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ شہد کا ذائقہ، رنگ اور ساخت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ شہد کی مکھی نے کس پودے، پھل یا درخت سے رس کشید کیا ہے۔ اور شہد کو دیکھ کر اس بات کا پتہ لگانا مشکل نہیں
پہلا شہد منوکا شہد ہے، جو نیوزی لینڈ کے منوکا پودے کے پھولوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ زخموں، جلنے، جلدی انفیکشن اور کھانسی کے علاج میں نہایت مفید سمجھا جاتا ہے اور اس کا مقامی اور دیگر جگہوں پر عام استعمال کیا جاتا ہے۔دوسرے نمبر پر بکویٹ شہد آتا ہے، جو گہرے رنگ اور بھرپور ذائقے کا حامل ہوتا ہے۔ یہ شہد مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور گلے کی کھانسی و سوزش میں کمی لاتا ہے۔

تیسرے نمبر پر یوکلپٹس شہد ہے، جس کے ذائقے میں مینتھول جیسی تازگی پائی جاتی ہے۔سفیدے یعنی یو کلپٹس ایسے علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں سیم وغیرہ ہو اور پانی وافر اور سطح زمین کے قریب ہو، یہ قوتِ مدافعت کو بہتر بناتا ہے اور سردی، کھانسی، ناک بند ہونے یا سانس کی تکلیف میں آرام پہنچاتا ہے۔ چوتھے نمبر پر کلوور (برسیم) شہد ہے، جو ہلکے رنگ اور نرم ذائقے والا ہوتا ہے۔ یہ دل کی صحت اور خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے، کولیسٹرول کم کرتا ہے اور ہاضمہ مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔
آخر میں پھلائی کا شہد آتا ہے، جو خوشبودار اور نرم ذائقہ رکھتا ہے۔ یہ بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے، ہاضمہ بہتر کرنے، جلد کی صحت سنوارنے اور جسم میں سوزش کم کرنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہ تمام اقسام اپنی انفرادی خصوصیات کی بنا پر شہد کو نہ صرف غذائیت کا خزانہ بلکہ قدرتی شفا کا ذریعہ بھی بناتی ہیں۔
