آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کی ریٹائرمنٹ کی تقریب میں ایک قابل تعریف لمحہ دکھنے کو ملا جب ایشز ٹرافی کی تقریب کے دوران شیمپین کی بارش نہیں بر سائی گئی اور اس طرح آسٹریلوی ٹیم نے ریٹائر ہونے والے اپنے کھلاڑی عثمان خواجہ کو ایک باوقار اور شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔

39 سالہ عثمان خواجہ نے سڈنی میں اپنا 88 واں اور آخری ٹیسٹ میچ کھیلا، 15 برس قبل اُنھوں نے اسی گراونڈ میں انگلینڈ کے خلاف ہی اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔اس میچ میں وہ جوش ٹنگ کی گیند پر صرف چھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے اور یوں آسٹریلیا نے سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کرتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچز کی ایشیز سیریز چار ایک سے جیت لی
سوشل میڈیا پر آسٹریلیوی ٹیم کے عثمان خواجہ کو الوداع کرنے کے انداز کی بہت تعریف کی جس میں روایتی شیمپین کی بارش برسانے کی بجائے سٹیو سمتھ اور آسٹریلوی ٹیم نے سادہ انداز میں جشن منانے کا انتخاب کیا، تاکہ عثمان خواجہ اپنی آخری ٹرافی اٹھانے کے موقع پر سب سے آگے اور نمایاں طور پر موجود رہ سکیں۔
خیال رہے اس سے قبل آسٹریلیوی ٹیم نے کئی مواقع پر شیمپین کے بغیر جشن منایا تاکہ عثمان خواجہ تقریب کا حصہ بن سکیں اور شراب کی بوندیں ان پر نہ گریں۔
یہ بھی پڑھئیے
آسٹریلیا کے پہلے مسلمان کرکٹر عثمان خواجہ کو الزامات نے ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا – urdureport.com
پی ایس ایل میں دو نئی ٹیمیں شامل ہو گئی ہیں،آغاز26مارچ سے ہو گا – urdureport.com
اس سے قبل ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں جیت کے موقع پر جب آسٹریلوی ٹیم نے شراب کے ساتھ جشن منانا چاہا تو ٹیم میں شامل مسلمان کھلاڑی عثمان خواجہ نے اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے اس جشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔ تب اس وقت کے کپتان کمنز نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو شراب کے ساتھ جشن منانے نہ دیا۔

