پاکستان تحریک انصاف نے کے ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جیل میں عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ تاہم اب تک جیل انتظامیہ یا ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایک نہایت حساس اور سنگین طبی مسئلہ ہے، جس کا بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان کی بینائی کو کوئی مستقل نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست حکومت اور جیل انتظامیہ پر عائد ہوگی جو عدالتی احکامات کے باوجود علاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا مکمل میڈیکل چیک اپ کیا تھا اور جیل انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کو فٹ قرار دیا تھا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ انھیں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت سے متعلق تشویش ہے اور ان سے جیل میں ملاقات نہ ہونے کے باعث بے چینی پھیل رہی ہے۔‘
یہ بھی پڑھئیے
جبکہ منگل کو جب ایک صحافی نے میڈیا ٹاک کے دوران عمران خان کی بہن علیمہ خان سے سوال کای تو انہوں نے کہا کہ یہ خبر کہاں سے آئی ہے ہمیں جیل کے اندر سے کوئی معلومات نہیں مل رہی۔


