حکومت کی جانب سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) تحریری درخواست دے تو پارٹی کے بانی چیرمین عمران خان کو ان کی بنی گالا رہائش گاہ منتقل کیا جا سکتا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما کا اس پر ردعمل سامنے آیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس معاملے پر اپنی ’سنجیدگی‘ ظاہر کرے تو اس پیشکش پر غور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ اگر وہ درخواست دیں تو ہم انہیں منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں، وہاں (بنی گالا) پی ٹی آئی رہنما عمران خان ان سے مل سکتے ہیں، حتیٰ کہ لُڈو اور دیگر کھیل بھی کھیل سکتے ہیں‘۔عمران خان کو رہا تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کی بنی گالا رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر انہیں وہاں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
نجی چینل کے ایک ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے تجویز دی ہے کہ اگر پی ٹی آئی درخواست دے تو عمران خان کو بنی گالا منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں پی ٹی آئی رہنما اور ان کے اہلِ خانہ روزانہ ان سے ملاقات کر سکیں گے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں 8 ہزار قیدی ہیں، جو عمران خان اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
کے پی کے بلٹ پروف گاڑیاں واپس ،طلال چوہدری کی تنقید – urdureport.com
2024 کا مینڈٹ چوری کا ہوا ، اسلام آباد جانے کی تیاری کر یں۔مولانا فضل الرحمن – urdureport.com
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اڈیالہ سے بنی گالا منتقلی کی تحریری درخواست دے، ہم یہ منتقلی کر دیں گے۔

