لاہور کے علاقے بھیکے وال میں ایک شیر نے حملہ کر کے ایک کمسن بچی کو زخمی کر دیا، جسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.
بچی کے والد خضر عباس کا کہنا ہے کہ اب ان کی بیٹی کی حالت خطرے سے باہر ہے.
شیر علاقے کی با اثر سیاسی شخصیت کی ملکیت ہیں جس کی وجہ سے اہل محلہ ان کی شکایت اعلی حکام کو درج کروانے سے ڈرتے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشن لاھور فیصل کامران کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث دو افراد کو گرفتار کر کے شیر کو بھی بازیاب کرا لیا گیا جس نے بچی پر حملہ کر کے اسے زخمی کیا تھا۔
تھانہ اقبال ٹاون پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب کچھ افراد ایک شیر کو لوڈر رکشے میں لے کر جا رہے تھے کہ بھیکے وال کے بازار میں رش دیکھ کر شیر نے بے قابو ہو کر وہاں پر موجود لوگوں پر حملہ کردیا۔ نو سالہ بچی جو دکان پر موجود تھی وہ شیر کے حملے کی زد میں آ گئی۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ شیر کے حملے سے بچی کی گردن اور اس کے دونوں کانوں کے اردگرد زخم آئے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا تھا کہ پولیس نے لاہور کے علاقے نواں کوٹ میں چھاپہ مار کر مزید 10 شیروں کو بازیاب کروا کر محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا۔
یہ بھی پڑھئیے
ہاتھی کے بڑے بڑے کان کیوں ہو تے ہیں،نئی تحقیق میں انکشافات – urdureport.com
ہمیں جوائن کریں
(3) Urdu Report (@UrduReportpk) / X
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق ان شیروں کو نواں کوٹ کے علاقے میں فیکٹری میں رکھا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ فیکٹری کے نیچے کڑھائی کا کام ہوتا تھا جبکہ عمارت کے فرسٹ فلور پر شیر رکھے گئے تھے۔ان شیروں کو چند ماہ قبل شیخوپورہ سے لاہور شفٹ کیا گیا تھا جبکہ ملزمان کے پاس شیروں کو لاہور میں رکھنے کا لائسنس موجود نہیں
واضح رہے کہ اس سے قبل یوٹیوبر رجب بٹ کے گھر سے بھی لاہور پولیس اور وائلڈ لائف کے عملے نے ایک شیر کا بچہ بازیاب کیا تھا۔ رجب بٹ کو شیر کا بچہ ان کے کسی دوست نے ان کی شادی پر تحفے کے طور پر دیا تھا۔


