پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماء چوہدری مونس الٰہی کے خلاف انٹرپول میں حکومت کے الزامات ثابت نہ ہونے پر جاری دو سالہ تحقیقات بند کر دی گئیں۔
حکومتِ پاکستان نے مونس الٰہی کے خلاف قتل، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت انٹرپول سے حوالگی کی درخواست دی تھی۔
مونس الٰہی کے وکیل کا کہنا ہے کہ انٹرپول کا فیصلہ انصاف کی جیت ہے۔ حکومت نے سیاسی بنیادوں پر کیسز بنائے لیکن مونس الٰہی آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
سپریم کورٹ میں داماد جج نے سسر جج کی تاریخ کو نصف صدی بعد پھر دہرا دیا۔ – urdureport.com
بشریٰ بی بی کالا جادو کرتی تھیں،برطانوی اخبار،قانونی چارہ جائی کریں گے،پی ٹی آئی – urdureport.com
ذرائع کے مطابق انٹرپول نے تمام شکایات اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا، تاہم مونس الٰہی پر لگائے گئے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس کے بعد بارسلونا میں مقیم مونس الٰہی کا نام انٹرنیشنل الرٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔


