پی ایم ڈی سی نے نجی میڈیکل کالجز کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر دیا پی ایم ڈی سی نے وفاقی حکومت کی منظور کردہ فیسوں پر عملدرآمد نہ کرنے والے نجی میڈیکل کالجز کی ایکریڈییٹیشن منسوخ کرنے سمیت داخلے روکنے اور قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پی ایم ڈی سی نوٹی فکیشن کے مطابق پرائیویٹ میڈیکل کالجز کیلئے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی زیادہ سے زیادہ فیس تمام لوازمات سمیت 18 لاکھ روپے مقرر ہے جس میں اس سال نئے داخلوں کے دوران 5 فیصد اضافے کی اجازت ہے نوٹیفکیشن میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو ویب سائیٹ پر لگائی جانیوالی من مانی فیسیں اتار کر پی ایم ڈی سی کی طرف سے فیسون کا جاری کیا گیا نوٹی فکیشن نجی میڈیکل کالجز کی ویب سائیٹ پر لگانے کی ہدایت کی گئی ہے نوٹی فکیشن کے مطابق پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی نئے سال کیلئے تمام لوازمات سمیت مجموعی سالانہ فیس دونوں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کیلئے 18لاکھ 90 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے ۔
اردو رپورٹ کی تحقیق کے مطابق میڈیکل کالجز نے من مانی فیسوں کا سلسلہ 2023 سے قبل سے شروع کر رکھا تھا کہ جب پی ایم ڈی سی نے 2023 ،-24سیشن کے طلبا سے سالانہ 29لاکھ روپے تک فیس وصول کرنے کی وجہ دریافت کی اور نجی میڈیکل کالجز کو خطوط ارسال کئے بعد میں معاملات پارلیمانی کمیٹیوں تک پہنچے اور ساتھ ہی وزیر اعظم نے بھی نائب وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی اسی دوران وزارت صحت وزارت قانون اور پی ایم ڈی سی کے اعلی حکام پر ایک کمیٹی بھی بنائی گئی۔
ماہرین کی اس،کمیٹی اس کمیٹی نے نائب وزیر اعظم کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز کیکئے دونوں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کیلئے سالانہ فیس 12 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی جس پر پرائیویٹ میڈیکل کالجز،متفق نہ ہوئے تو نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے یہ فیس 18 لاکھ روپے سالانہ مقرر کر دی مگر پرائیویٹ میڈیکل کالجز نے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ کیا سب سے بڑی زیادتی 2023-24سیشن کے طلبا سے ہورہی ہے جبکہ معاملہ بھی ان طلبا سے بھاری فیس وصولی سے شروع ہوا مگر ان کو نہ تو پی ایم ڈی سی کو ئی ریلیف دلواسکی نہ ہی وزارت صحت یہ وہ طلبا ہین جن سے 2023-24سال کیلئے 24سے 28 لاکھ روپے سالانہ فیس وصول کی گئی تھی۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی صحت ان طلبا کی فیس بھی 18 لاکھ روپے کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کر چکی ہے مگر ان طلبا کو اضافی وصول کردہ فیس واپس کی گئی نہ ہی ایڈجسٹ کی گئی اردو رپورٹ کے پاس 2023-24کے طلبا کی فیس 2024-25 سیشن کے برابر کرنے کی سینٹ کی ذیلی قائمہ کمیٹی کی دستاویزات بھی موجود ہیں۔
سینٹر پلوشہ خان کی صدارت مین قائم اس زیلی کمیٹی کی سفارشات کو سینٹ قائمہ کمیٹی صحت منظور کر چکی ہے طلبا کی بڑی تعداد پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج سے اپیل کر رہی ہے کہ 2023-24کے طلبا سے وصول کردہ اضافی فیس فوری واپس کرائی جائے۔
یاد رہے کہ پارلیمانی لیڈر سینٹر عرفان صدیقی کے استفسار پر پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی صحت کے اجلاس مین بیان دیا تھا کہ نجی میڈیکل کالجز کی طرف سے وصول کردہ 2023-24کی من مانی بھاری فیسوں کو ریگولیٹری اتھارٹی قبول نہیں کرتی مگر اس کے باوجود ان طلبا کو فیسں واپس نہیں ہو سکیں طلبا کا مطالبہ ہے کہ جب پی ایم ڈی سی نے 2024-25کیلئے فیس 18لاکھ مقرر کر دی تو 2023-24 کے طلبا سے بھی 18 لاکھ روپے ہی وصول کی جائے باقی رقم فوری واپس کرائی جائے۔
پی ایم ڈی سی کے صدر اور اس وقت کی رجسٹرار کے بیانات آج بھی ریکارڈ پر ہیں کہ 2023-24کے طلبا سے بھاری فیسیں وصول کی گئیں ہیں جس پر کالجز کو طلب کیا گیا یے وزارت صحت کے ایک اعلی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ جب فیسون کا معاملہ ہی 2023-24 کے طلبا سے بھاری فیس وصولی سے شروع ہوا تھا تو پہلے ان طلبا کی فیس فوری واپس ہونا ضروری ہے۔
پی ایم ڈی سی نے 2023-24کی وصول کردہ فیسوں کی منظوری اب تک نہیں دی یہ من مانی وصولی تھی اس کے باوجود نجی میڈیکل کالجز طلبا کا معاشی قتل کرتے رہے ہین جو بدستور جاری ہے وزارت صحت کے ایک سابق افسر کے مطابق میڈیکل کالجز کی سالانہ فیس بنتی ہی 12 لاکھ روپے تھی جسے 18 لاکھ روپے نہین کرنا چاہیئے تھا ۔
انہوں نے کہاکہ 2023-24 کے سیشن کے طلبا سے 28 لاکھ روپے تک فیس وصولی کا تو قطعی طور پر کوئی جواز،انہوں نے کہا عملدرآمد کو وقتی طور پر ایک طرف کر دیں جب 2024-25کے طلبا کیلئے 18 لاکھ روپے مقرر ہے تو 2023-24 کے طلبا،سے 28 لاکھ روپے تک فیس وصولی کیسے ہو سکتی ہے اج نہیں تو کل یہ ہر صورت واپس کرنا پڑے گی کیونکہ اس بھاری فیس کو کوئی فورم قبول نہین کرے گا اور معاملہ دوبارہ سینٹ اور قومی اسمبلی میں پہنچ سکتا ہے جس کا ریگولیٹری باڈی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔
پی ایم ڈی سیپی ایم ڈی سی ہی کے ایک افسر جو ان دنون سائیڈ لائن ہیں انہوں نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم کی کمیٹی نے 2024-25کے 2023-24کی وصول کردہ بھاری فیس وصولی کی رقم واپس کرانے سے فیںں روکا اس لئے نائب وزیر اعظم کا نام استعمال کر کے طلبا اور والدین سے زیادتی مناسب نہیں کیونکہ پی ایم ڈی سی کے ریکارڈ میں ایسی کوئی دستاویز نہیں جس میں نائب وزیر اعظم نے پی ایم ڈی سی کو 2023-24کے طلبا کو کسی انصاف سے محروم کرنے سے روکا ہو ذرائع کے مطابق جب بھی نائب وزیر اعظم نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں پر اجلاس کیا ایک ہی بات کو دہرایاکہ طلبا اور ان کے والدین سے زیادتی نہیں ہونی چاہیئے۔

