منگل کو وائٹ ہاؤس کی جانب بیان جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے ’متعدد آپشنز‘ پر غور کر رہے ہیں جس میں فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار گرین لینڈ میں اپنی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ گذشتہ برس بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ کی ضرورت معاشی وجوہات کی وجہ سے ہے۔
بی بی سی کے مطابق نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کا حصول ’قومی سلامتی کی ترجیح‘ ہے۔
یہ بیان یورپی رہنماؤں کے ڈنمارک کے حق میں ایک مشترکہ بیان کے چند گھنٹے بعد آیا۔ انھوں نے آرکٹک میں دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کے عزائم کی مخالفت کی تھی۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کی ’ضرورت‘ ہے۔ جس کے بعد ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے کوئی بھی حملہ نیٹو کے خاتمے کا سبب بنے گا۔
یہ بھی پڑھئِے
میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں, زنجیروں میں قید وینزویلا صدر مادورو – urdureport.com
کسی خودمختار ملک پر حملہ کرنا جنگی اقدام ہے،ممدانی ٹرمپ کے خلاف بول اٹھے – urdureport.com
تاریخی اعتبار سے امریکی حکام اس خطے کو سٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے توجہ دیتے آئے ہیں۔ روس سے قربت کی وجہ سے سرد جنگ کے دوران اسے یورپ اور شمالی امریکہ کے سمندری تجارتی راستے کو محفوظ بنانے کے لیے اہم سمجھا گیا۔ امریکی فوج نے دہائیوں تک یہاں ایک اڈہ قائم رکھا جسے بیلسٹک میزائلوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
تاہم سنہ 2023 میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں جیولوجیکل سروے آف ڈینمارک اور گرین لینڈ نے تخمینہ پیش کیا کہ جزیرے پر 38 معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہیں جن میں کاپر، گریفائیٹ، نیوبیئم، ٹائٹینیئم، روڈیئم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نایاب معدنیات جیسا کہ نیوڈیمیئم اور پریسیوڈائمیئم جو الیکٹرک گاڑیوں کی موٹر اور ونڈ ٹربائن بنانے میں کام آتی ہیں بھی پائی گئی ہیں
سنہ 2025 کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرکٹک میں ڈنمارک کے ایک خودمختار علاقے اور دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے میں نئی دلچسپی ظاہر کی تھی۔


