پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی سرکاری جامعات میں طلبہ تنظیموں کو مکمل طور پر ختم کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت تمام وائس چانسلرز کو نیا ٹاسک اور مکمل اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق طلبہ تنظیمیں اکثر علمی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں اور تعلیمی ماحول میں انتشار پیدا کرتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے ہدایات دی گئی ہیں کہ اب کسی بھی قسم کی طلبہ تنظیم، خواہ وہ سیاسی ہو یا مذہبی ان کو ختم کر دیا جائے اور جامعات میں صڑف پڑھائی کے ماحول کو اپنایا جائے اب ایسی تمام تنظیمیں قائم نہیں رہ سکیتیں اس ضمن مِن یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے تمام گروہوں کی نشاندہی کریں جو تعلیمی ماحول میں مداخلت یا تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہوں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد جامعات کو غیر سیاسی اور خالصتاً علمی اداروں میں تبدیل کرنا ہے۔محکمہ ہائر ایجوکیشن نے متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اس فیصلے پر بلا امتیاز عملدرآمد یقینی بنائیں۔ کسی خاص تنظیم کو نشانہ بنانے کے بجائے تمام طلبہ تنظیموں کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے گی۔”
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب یونیورسٹی انتظامیہ کسی بھی طالبعلم یا گروہ کے خلاف کارروائی کرنے میں آزاد ہوگی جو اپنی حدود سے تجاوز کرے یا ادارے کے علمی ماحول کو متاثر کرے۔ ایسے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی، معطلی، یا حتیٰ کہ داخلے کی منسوخی تک کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

