پاکستانی وفد کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں شرکت کرنے والی پاكستان تحریك انصاف كی سخت ناقد شمع جونیجو آخر كار كون ہیں جن كےحوالے سے تحریك انصاف كے اعتراض كے بعد ایك تنا زعے نے جنم لے لیا ہے جبكہ شمع جو نیجو نے اپنے وفد میں اپنی شمولیت وزیراعظم کا فیصلہ قرار دے دیا۔
کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شمع جونیجو کو پاکستانی وفد میں شمولیت كے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف اور دفتر خارجہ نے اظہار لاتعلقی کردیا تھا۔
ڈاکٹر شمع جونیجو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر كیا لكھا؟
ڈاكٹر شمع جو نیجو نے لکھاکہ ’میں پچھلے کئی مہینوں سے پاکستان اور وزیراعظم کے لیے کام کر رہی تھی،
پاک بھارت جنگ کے دوران میرے پالیسی بریفس، ایڈوائس، اور پوائنٹس، سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے اور محفوظ ہے‘۔’مجھے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی تقریر لکھنے کا ٹاسک دیا، اور خود وفد کا حصہ بنایا، میرا نام باقاعدہ مشیر کے طور پر شامل کیا گیا اور میرا سیکیورٹی پاس بھی اسی حوالے سے جاری کیا گیا‘۔
شمع جونیجو نے مزید کہاکہ ’میں نے ان (وزیراعظم) کی ٹیم کے ساتھ مل کے دن رات کام کیا، میں نے اُن کے ساتھ سفر کیا، اُن کے اور ٹیم کے ساتھ ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا، اُن کی بِل گیٹس جیسی اہم ترین سائیڈ لائین میٹنگس کا حصہ بنی، اور جن کی فوٹیج ٹی وی پر بھی آئیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کلائیمیٹ کانفرنس میں وزیراعظم کے پیچھے میں اور اسحٰق ڈار صاحب ساتھ بیٹھے ہوئے تھے‘۔ ’اس کانفرنس کے بعد مجھے پروٹوکول ٹیم والے اے آئی کانفرنس میں لے گئے جہاں خواجہ آصف کے پیچھے بلال اور میں سارا وقت نہ صرف ساتھ بیٹھے رہے بلکہ بلال نئی تقریر بھی لکھتے رہے، اس تقریر کے بعد ہم نے مل کے چائے پی، گاڑی کے انتظار میں 40 منٹ ساتھ بیٹھے، دوبارہ تصویریں لیں، اور ایک ہی کار میں تینوں ساتھ واپس ہوٹل بھی آئے، خواجہ صاحب کار میں پیچھے میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے‘۔
شمع جونیجو نے کہاکہ ’آخری دن وزیراعظم کی تقریر کے وقت بھی میں سب کے ساتھ اقوام متحدہ میں تھی اور ہم سب نے مل کر وزیراعظم کے لیے تالیاں بجائیں‘۔
مجھے مشن پروٹوکول والے خود ایئرپورٹ تک ڈراپ کرنے آئے‘۔
شمع جونیجو نے سوال اٹھایا کہ ’اب خواجہ صاحب ایسے بیان کیوں دے رہے ہیں، اور کس ایجنڈے کے تحت اپنی حکومت کے ایک تاریخی دورے کو بدنام کررہے ہیں، وزیراعظم کو اُن سے پوچھنا چاہیے کیونکہ اُن کی اتھارٹی چیلنج ہوئی ہے، میری نہیں‘۔
ڈاكٹر شمع جو نیجو كون ہیں ؟
واضع رہے كہ شمع جو نیجو كے حوالے سے سینیر صحافی فاروق فیصل خان نے اپنی فیس بل وال پر لكھا ہے كہ
ڈاکٹر شمع جونیجو نے برطانیہ کے یونیورسٹی آف لیسٹر سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے؛ اُن کا تھیسس بعنوان
“Who Governs Pakistan? — A Case Study of Military Ethics”
ہے، جو پاکستانی فوج کے اخلاقیات اور سیاسی مداخلت کا تنقیدی مطالعہ کرتا ہے۔
ان کے پروفائلز میں LLB (Hons)، MA (International Relations) اور MA (Diplomacy)
درج ہیں۔
کئ بین الاقوامی اداروں سے وابستہ ہیں۔برطانیہ میں رہتے ہوئے پی ٹی آئی کی پالیسیوں کی ناقد ہیں اس لئے ان کو پی ٹی آئی ٹرولز كرتے رہتے ہیں۔
حکومت پاکستان انہیں سول ایوارڈ سے بھی نواز چکیں۔وہ وزیر اعطم کے جہاز میں برطانیہ سے امریکہ گئیں اور اجلاس میں شریک ہوئیں، پی ٹی ائی نے اعتراض کیا تو حکومت سمیت تمام ذمہ داروں نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔


