امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر بارک اوبامہ اور ان کی اہلیہ مشعل اوبامہ کی بندروں کے چہروں کے ساتھ توہین آمیز ویڈیو جاری کرنے پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے

امریکہ سمیت اس وقت دنیا بھر مین امریکی صدر کے اس اقدام کی مزمت کی جا رہی ہے اور اس کو نسل پرستانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تا ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیِ کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے سابق صدر بارک اوباما اور ان کی اہلیہ کی تضحیک آمیز ویڈیو شیئر کرنے کے بعد سوشل میڈیا سے ہٹا دی تھی جس مین ان کے چہرے بندروں کے جسم پر فٹ کر دئیے۔
تا ہم بعد ازاں اس پر تنقید کے بعد اس کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا اور اس کو اپ لوڈ کر نے کا سارا الزام سٹاف پر لگا دیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس ویڈیو کا پہلا حصہ دیکھا اور اس کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا میں نے دوسرا حصہ نہیں دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ حصہ نہیں دیکھا جس میں سابق صدر اور ان کی اہلیہ کو دکھایا گیا تھا۔میرا خیال ہے آخر میں کچھ تصاویر تھیں جن کو لوگ پسند نہی کرتے میں بھی نہیں کرتا۔
Donald Trump has refused to apologise for a social media post depicting Barack and Michelle Obama as apes, saying he "didn't make a mistake".
Read more on this story: https://t.co/ENKLbtjZH0 pic.twitter.com/Pvh3uFMFI8
— Sky News (@SkyNews) February 7, 2026
مختصر ویڈیو کے اختتام پر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشعل اوباما کی جوڑے بندروں کی شکل میں اچانک نمودار ہوتی ہیں۔، جہاں ان کے چہروں کو بندروں کے جسموں پر فٹ کر دیا گیا۔
ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بے بنیاد دعوے بھی کیے گئے ہیں کہ ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابی نتائج چرائے گئے۔
ان مناظر کے دوران تقریباً ایک سیکنڈ کے لیے گانا ’’دی لائن سلیپس ٹونائٹ‘‘ بھی چلتا ہے۔
یہ پوسٹ سیاہ فام افراد کو بندروں سے تشبیہ دینے کے قدیم اور توہین آمیز نسل پرستانہ تصور کی یاد دلاتی ہے۔
ری پبلکن سینیٹر ٹِم اسکاٹ، جو سینیٹ میں واحد سیاہ فام ری پبلکن ہیں انہوں نے اس کے شئِر ہو نے کے بعد اس ویڈیو کو کھلے الفاظ میں نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ سے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ دعا ہے یہ جعلی ہو، کیونکہ وائٹ ہاؤس سے میں نے اب تک جو سب سے زیادہ نسل پرستانہ چیز دیکھی ہے، یہ وہی ہے، صدر کو یہ پوسٹ فوراً ہٹا دینی چاہیے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس ردِعمل کو ’’جعلی غصہ‘‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


