گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے تمام مالیت کے کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن فائنل کر لیے ہیں۔
انہو ں نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈیزائن وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ اب نئے کرنسی نوٹس کے اجرا کی حتمی منظوری ا وفاقی حکومت دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے کرنسی نوٹس میں جدید ترین سیکیورٹی فیچرز، جدید پرنٹنگ ٹیکنالوجی اور بہتر کوالٹی کے میٹریل شامل کیے جا رہے ہیں۔
نئے فیچر اس لیے شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ کرنسی زیادہ محفوظ ہو۔ ساتھ ہی پلاسٹک (پولیمر) کرنسی نوٹس کو بھی تجرباتی بنیادوں پر متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے، جیسا کہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔
5 ہزار روپے کے نوٹ پر افواہیں
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کی کوئی تجویز اسٹیٹ بینک کے زیر غور نہیں ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن میں تبدیلی کا عمل جاری ہے، مگر اس کا مقصد جعلی نوٹس کی روک تھام ہے، نہ کہ کسی خاص مالیت کے نوٹ کو ختم کرنا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ 5 ہزار روپے کے نوٹ کے معاملے کو چھیڑنے سے معیشت میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

پانچ ہزار کے نوٹ کی بندش پر وضاحت
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کے خاتمے سے متعلق افواہیں زور پکڑ رہی تھیں، تاہم اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے دی گئی وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پانچ ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ صرف کرنسی نوٹس کے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کو جدید بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیں

