ہم روز مرہ زندگی میں جو خواراک کھاتے ہیں اس سے نہ صرف ہمارے جسم کی بو بدل جاتی ہے بلکہ یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ ہم کتنے توانا اور دوسروں کے لیے کتنے پرکشش ہیں۔لہسن، گوشت، اور یہاں تک کہ روزے بھی ہمارے جسم کی بو کو بدل سکتے ہیں اور اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ ہم دوسروں کے لیے کتنے پرکشش نظر آتے ہیں۔
بروکولی، بند گوبھی، برسلز کے سپراؤٹ اور پھول گوبھی کو صحت مند غذا کا حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن ان میں سلفر مرکبات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے تحقیق اور مطالعات سے پتہ چلا کہ جہاں لہسن سانس کی بدبو کا باعث بن سکتا ہے، وہیں یہ جسم کے پسینے کی بو کو بھی زیادہ دلکش بنا سکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق نتائج سے معلوم ہوا کہ کم لہسن کھانے والوں کی بو میں کوئی خاص فرق نہیں تھا، لیکن زیادہ لہسن کھانے والوں کو زیادہ پرکشش اور مطلوبہ درجہ دیا گیا۔ یہاں تک کہ شرکاء جنھوں نے لہسن کی سپلیمنٹس لی تھیں انھیں زیادہ پرکشش قرار دیا گیا۔
اس کے مطابق جن لوگوں کی جلد کا رنگ ہلکا پیلا ہوتا ہے، یعنی وہ لوگ جن میں کیروٹینائیڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے (گاجر، کدو، ٹماٹر اور پپیتا جیسے پھلوں میں پائے جاتے ہیں)، دوسروں کے لیے زیادہ پرکشش سمجھے جاتے ہیں۔
جس طرح ہر شخص کی انگلیوں کے نشان منفرد ہوتے ہیں اسی طرح ہر انسان کی بو بھی منفرد ہوتی ہے۔

سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف سٹرلنگ میں سماجی نفسیات کے پروفیسر کریگ رابرٹس کا کہنا ہے کہ ’پچھلی چند دہائیوں کی تحقیق سے واضح طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہماری بو ہمارے جینز، ہارمونز، صحت اور حفظان صحت کی عادات سے تشکیل پاتی ہے۔‘
’چاہے ہم مرد ہوں یا عورت، جوان ہوں یا بوڑھے، صحت مند ہوں یا بیمار، خوش ہوں یا غمگین، ہماری بو ہمارے جسم کی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔‘
ان میں سے بہت سی چیزیں ہمارے بس میں نہیں مگر کچھ ہمارے اختیار کا حصہ ہیں اور ہم غذا سے اپنے جسم کی خوبصورتی اور دوسروں کے لیے پر کشش بنا سکتے ہیں اور یہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں غذائیت میں چھوٹی موٹی تبدیلی کے ذریعے ممکن بنا سکتے ہیں ۔

تحقیق میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ جن لوگوں کی جلد کا رنگ ہلکا پیلا ہوتا ہے، یعنی وہ لوگ جن میں کیروٹینائیڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے (گاجر، کدو، ٹماٹر اور پپیتا جیسے پھلوں میں پائے جاتے ہیں)، دوسروں کے لیے زیادہ پرکشش سمجھے جاتے ہیں۔
جن لوگوں نے اپنی غذا میں چربی، گوشت، انڈے اور توفو کی معتدل مقدار شامل کی تھی ان کے پسینے کی بو بھی زیادہ خوشگوار تھی۔ اس کے برعکس، کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھانے والوں کو کم پرکشش قرار دیا گیا۔
