خیبر پختونخوا کی حکومت نے پنجاب حکومت سے گندم اور اس سے بنی مصنوعات کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر عائد ’ پابندیوں’ کو واپس لینے کی درخواست کی ہے،کے پی کے میں گندم کی دستیابی اور قیمتوں میں ’ شدید اضافہ’ ہو گیا ہے۔
ایک روز قبل کے پی کے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گندم کی بین الصوبائی پابندی کی مزمت کرتے ہوئے آئین کی خلاف ورزی اور کے پی کے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور محکمہ خوراک کو ہدایت کی تھی کہ پنجاب کے متعلقہ حکام کو اس بارے میں باضابطہ خط لکھا جائے۔
محکمہ خوراک کے مطابق 100 کلوگرام گندم کی قیمت 13 اگست کو پشاور میں 6 ہزار 175 روپے تھی، جو 28 اگست کو بڑھ کر 7 ہزار725 روپے ہو گئی، اور 22 اکتوبر تک یہ دس ہزار 675 روپے تک جا پہنچی۔
مزید کہا گیا:’ چیف سیکریٹری، سیکریٹری فوڈ، اور ڈائریکٹر فوڈ خیبر پختونخوا کی جانب سے متعدد بار رابطوں کے باوجود پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔ نتیجتاً صوبہ اس وقت گندم کی شدید قلت اور مارکیٹ میں بے مثال قیمتوں کے اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔’ اگر پابندیاں برقرار رہیں تو آنے والے دنوں میں گندم اور آٹے کی عدم دستیابی کا خدشہ ہے۔
حکومت پنجاب نے سیلاب کے بعد صوبے کے اندر قیمتوں پر قابو پانے کے لیے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پرمٹ سسٹم کے ذریعے سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
محکمہ خوراک خیبر پختونخوا کی جانب سے سیکریٹری پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو لکھے گئے ایک خط میں بین الصوبائی سطح پر گندم کی نقل و حرکت پر تمام پابندیوں کو ختم کرنے کا کہا گیا۔ خط میں مزید کہا گیا کہ موجودہ صورتحال آئین کے آرٹیکل 151(1) کے منافی ہے، جو ’ ملک بھر میں تجارت اور سامان کی آزادانہ نقل و حرکت’ کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
وفاقی حکومت نے گندم پالیسی منظور کر لی قیمت 3500 روپے من مقرر – urdureport.com
خط میں کہا گیا ہے کہ’ خیبر پختونخوا چونکہ گندم کے لحاظ سے خود کفیل نہیں ہے، لہٰذا صوبہ اپنی یومیہ گندم کی ضرورت، جو تقریباً 14 ہزار 500 میٹرک ٹن ہے، پوری کرنے کے لیے پنجاب سے آنے والی گندم پر انحصار کرتا ہے اور اس پابندی نے صوبے کو شدید متاثر کیا ہے۔’یہاں منڈی کے ریٹ بڑھ گئے ہیں جبکہ پابندی دیگر صوبوں کی نسبت غیر متناسب ہے۔
خط میں 2 ہزار میٹرک ٹن آٹے کی ترسیل کے لیے ’ حالیہ اجازت’ کا خیرمقدم کیا گیا، لیکن کہا گیا کہ یہ اقدام ’ ناکافی’ ہے۔

