آئی ایم ایف نے مختلف شعبوں میں ٹیکس استثنیٰ دینے کی تفصیلات پر بریفنگ مانگ لی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ خزانہ کے حکام چینی کی برآمد اور پھر درآمد پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دیں گےاورپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات دوسرے ہفتے جاری رہیں گے، آئی ایم ایف کو پاکستان کی جانب سےریکوڈک منصوبے پر ٹیکس چھوٹ پر بھی بریفنگ دی جائے گی اور حکومت کی جانب سے اس ٹیکش استثنیٰ اور اس کے نتیجے میں ہو نے والی وصولیوں کا بھی بغور جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ریکوڈک منصوبے پر ٹیکس چھوٹ کے اثرات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔آئی ایم ایف کے وفد کو ریکوڈک منصّبے کے بڑے پیمانے پر میکرو اثرات اور فنا نسنگ پر بریفنگ دی جائے گی۔ جبکہ پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ کاری پر بحی بریف کیا جا ئے گا۔۔
آئی ایم ایف وفد کو ریکوڈک منصوبے کے ٹیکسز اور رائلٹیز پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ ریکوڈک منصوبے کی گارنٹیز سے متعلق فسکل رسک کے اثرات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

