پاکستان تحریک انصاف کے کے پی کے میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا پہلا سیاسی جلسہ اتوار کو پشاور میں ہو نے جا رہا ہے جو کہ ان کا سیاسی میدان میں امتحان بھی ہو گا۔ 7 دسمبر کو پشاور میں بڑا جلسہ ہونے جا رہا ہے جو سہیل آفریدی کا پہلا بڑا سیاسی جلسہ ہوگا۔

اس وقت وفاق اور کے پی کے حکومتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں کیو نکہ ایک جانب سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی نویں بار بھی اجازت نہ ملی جس وجہ سے وہ بغیر ملاقات اڈیالہ سے روانہ ہو گئے اور دوسری جانب وفاق نے بھی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عاید کر دی ہے۔
سہیل آفریدی اتوار والے جلسے میں اپنے آئیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کر یں گے اور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنو ں میں وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات میں تلخی اور شدت آئے گی۔
ایسے میں ایک جانب وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی خبروں کی بھی بازگشت سنائی دے رہی ہے دوسری جانب سہیل آفریدی بھی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔
وفاق سے شدید اختلافات کے باوجود سہیل آفریدی جمعرات کے روز محکمہ خزانہ گئے، میٹنگ کے بعد سہیل آفریدی اپنی کابینہ کے ممبران اور پارٹی رہنماؤں کے ساتھ عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، جہاں ان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد نویں بار اڈیالہ جیل آئے لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔ ’ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ جیل آ رہا ہے لیکن اسے ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی۔‘سہیل آفریدی نےکہاکہ حکومت مستقل رہنے والی نہیں، ان کی حرکات یاد رکھی جائیں گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے جیل میں قید بانی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر سہیل آفریدی حکومت اور وفاق کے درمیان دوریاں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے
سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز،اڈیالہ جیل جانے سے بھی روک دیا – urdureport.com
پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع بتا رہے ہیں کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد پارٹی پہلے کی نسبت زیادہ فعال ہو گئی ہے اور احتجاج میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
صدر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا جنید اکبر نے تمام کارکنان سے اتوار کو ہونے والے جلسے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ ان کے مطابق پشاور کا جلسہ تاریخی ہوگا جس میں بڑی تعداد میں کارکنان اور سپورٹرز شرکت کریں گے۔

