• Home  
  • استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی منظوری، مقامی آٹو انڈسٹری کا شدید ردعمل
- ٹاپ سٹوری

استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی منظوری، مقامی آٹو انڈسٹری کا شدید ردعمل

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی سربراہی میں ٹیرِف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) نے پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی مقامی آٹو انڈسٹری کی بھرپور مخالفت کے باوجود کیا گیا، جس نے اس پالیسی کو نہ صرف صنعتی بنیاد پر خطرناک قرار دیا ہے بلکہ […]

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی سربراہی میں ٹیرِف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) نے پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی مقامی آٹو انڈسٹری کی بھرپور مخالفت کے باوجود کیا گیا، جس نے اس پالیسی کو نہ صرف صنعتی بنیاد پر خطرناک قرار دیا ہے بلکہ اسے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے سنگین خطرات سے بھی جوڑ دیا ہے۔

وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق ٹی پی بی نے یہ فیصلہ دو مسلسل اجلاسوں میں تفصیلی غور و خوض کے بعد کیا اور اب اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ان اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے طے شدہ معاہدے کے تحت تجارتی ٹیرف میں بتدریج کمی کو یقینی بنانا ہے۔ پالیسی کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی (اے ڈی آر) ہر سال 10 فیصد کم کی جائے گی۔

ابتدائی مرحلے میں یہ درآمدات صرف جون 2026 تک پانچ سال پرانی گاڑیوں تک محدود رہیں گی، جس کے بعد عمر کی حد کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ تاہم، درآمد شدہ گاڑیاں ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر پورا اترنا لازمی ہوگا، جن کی وضاحت وزارت صنعت و پیداوار اور دیگر متعلقہ ادارے کریں گے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں آٹو انڈسٹری پہلے ہی معاشی چیلنجز اور صارفین کی کم ہوتی قوت خرید کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ انڈسٹری کے مطابق پاکستان میں اس وقت ٹویوٹا، ہنڈا، سوزوکی، ہنڈائی سمیت 13 بین الاقوامی برانڈز فعال ہیں، جن سے منسلک 1200 سے زائد آٹو پارٹس ساز ادارے اور 15 لاکھ سے زائد افراد روزگار حاصل کرتے ہیں۔ تقریباً 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پیداواری صلاحیت، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں کی جا چکی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں