• Home  
  • اسلام آباد ایک جدید شہرجسے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے
- سیاحت

اسلام آباد ایک جدید شہرجسے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے

دور جدید کا شہر آج اسلام آباد پاکستان کا انتظامی، سیاسی اور سفارتی مرکز بن گیا ہے اس شہر کی خوصورتی نے اس کو دنیا کے خوبصورت اور سبز ترین دارالحکومتوں میں شمار کرا دیا ہے،دنیا میں اسلام آباد کی طرز پر باقائدہ منصوبہ بندی کے تحت بننے والا شاید ہی کوئی شہر آباد ہوا […]

beautiful Islamabad

دور جدید کا شہر

آج اسلام آباد پاکستان کا انتظامی، سیاسی اور سفارتی مرکز بن گیا ہے اس شہر کی خوصورتی نے اس کو دنیا کے خوبصورت اور سبز ترین دارالحکومتوں میں شمار کرا دیا ہے،دنیا میں اسلام آباد کی طرز پر باقائدہ منصوبہ بندی کے تحت بننے والا شاید ہی کوئی شہر آباد ہوا ہو جس نے چند دہائیوں میں ہی اپنا مقام پیدا کیا ہو، یہاں کی فصیل مسجد، پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ،مارگلا کی پہاڑیاں اور راول جھیل نے اس شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔غیر ملکی سیاح اس شہر کی آب و تاب اور رونق کو دیکھ کر ایک بار ضرور دنگ رہ جاتے ہیں۔

شکرپڑیاں کی تاریخ اہمیت

اسلام آباد کے نئے دارالحکومت کی سنگِ بنیاد کی تقریب 24 فروری 1960ء کو شکرپڑیاں(میھٹے پتوں والا مقام) کے مقام پر منعقد ہوئی۔ یہ تقریب صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ادا کی۔ یہاں آج ایک تختی لگائی ہے جو کہ اس تقریب کی یاد تازہ کر تی ہے۔آج بھی اس جگہ پر ایک یادگار "شکرپڑیاں نیشنل مونومنٹ” بھی موجود ہے۔شکریاں ایک گاوں تھا جس کے لوگ کسان تھے اسلام اباد کے آباد ہونے پر ان کو دوسرے علاقوں میں شفٹ کر دیا گیا۔

منصوبہ بندی اور تعمیر

1959ء میں صدر ایوب خان کے دور میں کراچی کے بعد "اسلام آباد” کو دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا گیا۔ شہر کی منصوبہ بندی کے لیے یونانی نژاد امریکی ماہرِ تعمیرات کانسٹینٹینوس اپوستولوس دوکسیادِس (Constantinos Doxiadis) کو منتخب کیا گیا۔ انہوں نے اسلام آباد کو "گرڈ سسٹم” کے تحت مختلف سیکٹرز میں تقسیم کیا، جنہیں آج بھی F، G، H اور I کے سیکٹرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تعمیر کا آغاز 1960ء کی دہائی میں ہوا اور جلد ہی سرکاری دفاتر کراچی سے یہاں منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ اسلام آباد کو باضابطہ طور پر 1967ء میں پاکستان کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔

پاکستان مانو منٹ

پاکستان مانومنٹ اسلام آباد کے شکرپڑیاں میں واقع ایک قومی یادگار ہے جو پاکستان کے چاروں صوبوں اور چار وفاقی اکائیوں کی یکجہتی کی علامت ہے۔ اسے کھلے ہوئے پھول کی شکل میں بنایا گیا ہے، جس کی چار بڑی پَتیاں صوبوں کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ چھوٹی پَتیاں وفاقی علاقوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کی تعمیر 2004ء میں شروع ہوئی اور 2007ء میں مکمل ہوئی۔ یادگار کے ساتھ پاکستان میوزیم بھی قائم ہے، جہاں ملک کی تاریخ اور ثقافت کو محفوظ کیا گیا ہے۔

لوک ورثہ

وفاقی دارالحکومت میں چو نکہ چاروں صوبوں کی نمائندگی اور ثقافت کو اجاگر کر نے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیا یہ ادارہ لوک ورثہ اسلام آباد کے شکرپڑیاں میں واقع ایک ثقافتی ادارہ ہے جو 1974ء میں قائم ہوا۔ اس کا مقصد پاکستان کی لوک ثقافت، موسیقی، ہنر اور روایات کو محفوظ کرنا اور اجاگر کرنا ہے۔ یہاں ایک ہیریٹیج میوزیم اور آڈیٹوریم ہے ہر سال منعقد ہونے والا لوک میلہ ملک بھر کے فنکاروں اور ہنر مندوں کو اکٹھا کرتا ہے، جو پاکستان کی ثقافتی یکجہتی کی جھلک پیش کرتا ہے۔

سعودی عرب کا خوبصورت تحفہ فیصل مسجد

فیصل مسجد اسلام آباد کی علامتی اور پاکستان کی سب سے بڑی مسجد ہے، جو سعودی عرب کے شاہ فیصل کی مالی معاونت سے تعمیر ہوئی۔ اسے ترک ماہرِ تعمیرات ویدت دالوکی نے ڈیزائن کیا اور 1986ء میں مکمل کیا گیا۔ یہ مسجد اپنے انوکھے خیمہ نما ڈیزائن اور چار بلند میناروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے اور اسلام آباد کا نمایاں ترین مقام شمار ہوتی ہے۔ جہاں ہر سال کثیر تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاھ یہاں آتے ہیں۔

سرکاری عمارتیں

اسلام آباد میں وفاقی دارالخلافہ ہونے کی حثیت سے پاکستان کی اہم سرکاری ترین عمارتیں واقع ہیں جن میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوانِ صدر، سپریم کورٹ، وزیرِاعظم ہاؤس اور کابینہ ڈویژن شامل ہیں۔ یہ عمارتیں جدید طرزِ تعمیر اور قومی اہمیت کی علامت ہیں اور ملک کے سیاسی و انتظامی فیصلوں کا مرکز تصور کی جاتی ہیں

مارگلہ کی پہاڑیاں اور دامن کوہ کا سیاحتی مقام

مارگلہ پہاڑیاں اسلام آباد کے شمال میں واقع ہرے بھرے پہاڑی سلسلے ہیں جو ہمالیہ کا حصہ ہیں اور شہر کو خوبصورتی بخشتے ہیں۔ ان کے دامن میں واقع دامن کوہ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں سے پورے اسلام آباد کا دلکش نظارہ کیا جا سکتا ہے۔جبکہ دامن کوہ سے مارگلہ کی پہاڑیوں آدھے گھنٹے کی مسافت پر خوبصورت مقام پیر سوہاوہ موجود ہے جو کہ دوسری جانب صوبہ کے پی کے سے مل جاتا ہے۔

خوبصورت راول جھیل

راول جھیل اسلام آباد کی ایک بڑی مصنوعی جھیل ہے جو راول ڈیم کے ذریعے بنی۔ یہ جھیل اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے پینے کا اہم ذریعہ ہے اور ساتھ ہی سیاحت و تفریح کے لیے بھی مشہور ہے۔ اس کے کنارے سبزہ زار، بوٹ کلب اور پکنک پوائنٹس موجود ہیں جو اسے شہریوں اور سیاحوں کے لیے پرکشش بناتے ہیں۔اس کے ساتھ ایک دلکش پکنک سپاٹ لیک ویو بنایا گیا ہے جو کہ بچوں بڑوں سب کے لیے تفریھ کا ساماں پیدا کرتا ہے۔

اسلام آباد میں بڑے بڑے شاپنگ مالز اور ہوٹلز موجود ہیں

اسلام آباد میں جدید شاپنگ مالز شہریوں اور سیاحوں کے لیے خریداری اور تفریح کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان میں سب سے مشہور اور بڑا مال "سینٹورس مال” ہے، جو بلند و بالا عمارت میں قائم ہے اور یہاں مقامی و بین الاقوامی برانڈز کی دکانیں، فوڈ کورٹ، سینما اور دیگر تفریحی سہولتیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ "گیگا مال” اور "سفران مال” بھی نمایاں مراکز ہیں جبکہ بڑے بڑے ہوٹلز میں سرینا ہوٹل ہے جو کہ اپنی شاندار طرز تعمیر اور محمان نوازی کی وجہ سے مشہور ہے۔

پاک چین دوستی کی نشانی پاک چائنہ سنٹر

پاک چائنا فرینڈشپ سنٹر اسلام آباد میں شکریاں کے مقام پر واقع ایک ثقافتی اور کانفرنس کمپلیکس ہے جو پاکستان اور چین کی دوستی کی علامت کے طور پر تعمیر کیا گیا۔اس میں بڑی کانفرنس ہال، نمائش گاہیں، تھیٹر اور سیمینار رومز موجود ہیں جس میں۔ سرکاری تقاریب، ثقافتی پروگرام، تجارتی نمائشیں اور بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کی جاتی ہیں۔

عالمی معیار کی تعلیمی درسگائیں

اسلام آباد میں واقع نسٹ (NUST) اور قائداعظم یونیورسٹی پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہیں ہیں جو عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ نسٹ جدید سائنسی و انجینئرنگ تعلیم کے لیے مشہور ہے جبکہ قائداعظم یونیورسٹی سوشل سائنسز اور نیچرل سائنسز کے شعبوں میں عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہے۔

بدھ مت کے تاریخی مقامات

اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں بدھ مت کے تاریخی مقامات بھی موجود ہیں جو گندھارا تہذیب کی یاد دلاتے ہیں۔ ان میں شاہ اللہ دتہ کے قدیم غار شامل ہیں، جہاں بدھ راہب مراقبہ کیا کرتے تھے، یہ مقامات سیاحوں اور محققین کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں