امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مکمل تیاریوں کے باوجود تاحال ایران پر حملہ نہ کرکے سب کو حیران کردیا ہے اور خود ہی اس بات کی وضاحت بھی کر دی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ تاحال حملہ نہ کرنے کا فیصلہ انھوں نے کسی کے دباؤ یا تجویز پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر لیا اور اس کی ایک اہم وجہ بھی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود کو قائل کیا۔ ایران نے 800 سے زائد گرفتار مظاہرین کو پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھئیے
جارحیت کی گئی تو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ایران – urdureport.com
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا،ترجمان وائٹ ہاوس – urdureport.com
ایران پر عنقریب حملہ ہونے والا ہے۔برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کا دعویٰ – urdureport.com
انھوں نے مزید کہا کہ جب ایران نے یہ پھانسیاں منسوخ کر دیں تو میں نے بھی حملے کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی تھی۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو قتل کیا تو امریکا فوجی علاوہ ۔کارروائی کرے گا۔
یاد رہے کہ ایران نے 800 مظاہرین کو پھانسی دینے کے منصوبے کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں کی ہے۔
اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ میں اس بات کا احترام کرتا ہوں کہ ایران کی قیادت نے 800 سے زائد طے شدہ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا۔ اس فیصلے پر شکریہ!
واضح رہے کہ ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق اب تک 3,428 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

