ایران سکیورٹی فورسز کے حکومت مخالف مظاہرین پرتشدد کے نتائج کے حوالے سے ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ کریک ڈاؤن کے دوران اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو یقین دلایا ہے کہ ’احتجاج جاری رکھیں مدد آرہی ہے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ 17 روز کے دوران انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود وہ اب تک 1850 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ 135 حکومتی حامی افراد، نو عام شہری اور بچے بچے بھی مارے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی نے امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی وارننگ جاری کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
امریکی ورچوئل ایمبیسی کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران میں جاری مظاہرے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ مزید پرتشدد رخ اختیار کر سکتے ہیں،سڑکیں بند، عوامی ٹرانسپورٹ متاثر اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایرانی حکومت نے موبائل، لینڈ لائن اور قومی انٹرنیٹ نیٹ ورکس تک رسائی محدود کر دی ہے۔ فضائی کمپنیوں نے ایران آنے اور جانے والی پروازوں کو محدود یا منسوخ کر دیا ہے، جبکہ کئی ایئرلائنز نے اپنی سروس معطل کر دی ہے۔‘
امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے ترکی یا آرمینیا روانہ ہو جائیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث درست اعداد و شمار تک رسائی مشکل ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی بندش کے باعث گزشتہ دنوں میں درست معلومات حاصل کرنا اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔ آزاد میڈیا کی غیر موجودگی میں ان خبروں کی جانچ پڑتال تقریباً ناممکن ہے۔

