ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات، نقصانات اور عوام کے خلاف جھوٹے الزامات کی ذمہ داری امریکی صدر پر عائد کر دی ہے۔ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے باعث ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہاکہ حالیہ ایران مخالف فسادات میں امریکی صدر کی ذاتی مداخلت واضح طور پر دیکھی گئی، جس نے صورتحال کو مزید خراب کیا اور ایرانی عوام کو نقصان پہنچایا۔
سپریم لیڈر نے مزید واضح کیاکہ ایران ملک کو جنگ میں دھکیلنے کے عزائم نہیں رکھتا۔
ایران نے جی سیون ممالک کے حالیہ بیان کو ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تشدد اور دہشتگردی کے واقعات میں اسرائیلی کردار کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا،ترجمان وائٹ ہاوس – urdureport.com
امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں نہ کیا،صدر ٹرمپ نے اس کی وجہ بتا دی – urdureport.com

بیان کے مطابق 8 سے 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اکسانے کے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیاکہ ایران آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے اور شہری آزادیوں کا پابند ہے۔


