ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شدت آرہی ہے اور اس وقت 12ویں روز میں داخل ہو چکے ہیں اور فی الحال اُن میں کمی کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔
طلبہ بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے اور دیگر جگہوں پر بھی چھوٹے کاروبار اور اگلے دنوں میں دیگر شہروں میں بھی رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے لگنے لگے۔
مہنگائی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی آنے پرعوام مظاہروں کے لیے گھروں سے نکل آئِی گذشتہ برس کے دوران ایران میں ڈالر کی قدر میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
آزاد میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران میں گذشتہ دس روز کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں کم از کم 36 افراداس دورانیے میں 60 سے زائد مظاہرین زخمی جبکہ 2076 گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ ایران میں 28 دسمبر کو شروع ہونے والا یہ احتجاج اب مُلک کے 31 میں سے 27 صوبوں میں پھیل چکا ہے۔ ہلاک ہوئے ہیں
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی عوام کے خلاف ’پرتشدد کارروائیوں‘ کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔
یہ بھی پڑھئیے
میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں, زنجیروں میں قید وینزویلا صدر مادورو – urdureport.com
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی وینزویلا میں ایک ڈرامائی فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو تحویل میں لینے سے ایک روز پہلے دی گئی تھی۔
ایک امریکی صدر کی طرف سے ایران میں جاری احتجاج کے دوران دی جانے والی دھمکی کو ایران میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے احتجاج کے آغاز سے ہی مظاہرین کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے۔

