• Home  
  • ایلون مسک نے انسانی دماغ میں چپ لگانے کا منصوبہ کیوں بنایا ؟
- خاص رپورٹ

ایلون مسک نے انسانی دماغ میں چپ لگانے کا منصوبہ کیوں بنایا ؟

ایلون مسک کے نزدیک Neuralink کیوں اہم ہے؟ Neuralink ایلون مسک کہتا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگ محض سوچ کر موبائل، کمپیوٹر اور روبوٹ کو کنٹرول کر سکیں گے۔ مزید یہ کہ اس کے ذریعے نابینا افراد کو دیکھنے اور معذور افراد کو چلنے میں بھی مدد مل سکے گی۔ انسان […]

ایلون مسک انسانی دماغ میں چپ کیوں لگانا چاہتے ہیں؟

ایلون مسک کے نزدیک Neuralink کیوں اہم ہے؟

Neuralink ایلون مسک کہتا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگ محض سوچ کر موبائل، کمپیوٹر اور روبوٹ کو کنٹرول کر سکیں گے۔ مزید یہ کہ اس کے ذریعے نابینا افراد کو دیکھنے اور معذور افراد کو چلنے میں بھی مدد مل سکے گی۔

انسان کس طرح مصنوعی ذہانت سے مفید ہو گا؟

Neuralink ایلون مسک کی بایو ٹیکنالوجی کمپنی ہے جس کا مقصد انسان کے دماغ کو براہِ راست کمپیوٹر سے جوڑنا ہے، جسے Brain–Computer Interface (BCI) کہا جاتا ہے۔ اس کے دو بڑے مقاصد ہیں: فالج یا اعصابی امراض کے شکار مریضوں کی زندگی بہتر بنانا شامل ہے ۔ایلون مسک مستقبل میں انسان کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے تا کہ مذکورہ بیماریوں کے مریض زندگی کی جانب واپس لوٹ سکیں۔ اس ٹیکنالوجی میں باریک الیکٹروڈز دماغ میں نصب کیے جاتے ہیں جو سگنلز کو پڑھ کر کمپیوٹر تک پہنچاتے ہیں، اور یوں دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان ایک "بلوٹوتھ کنکشن” جیسا ربط قائم ہوتا ہے۔

دماغ میں چِپ کی تنصیب

Neuralink ٹیکنالوجی کا سب سے بنیادی پہلو دماغ میں ایک باریک چِپ نصب کی جائے گی ۔ یہ چِپ نہایت باریک الیکٹروڈ تاروں کے ذریعے دماغ کے اعصاب سے جڑ جاتی ہے اور وہاں سے برقی سگنلز پڑھ کر کمپیوٹر تک پہنچاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس عمل سے دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان ایک براہِ راست رابطہ قائم ہو جائے گا۔یہ منصوبہ مستقبل میں انسان کو مصنوعی زہانت سے جوڑ دے گا اور مریضوں کے لیے مفید ہو گا۔

نیورالنک انسانی دماغ میں چپ کیوں لگائی جائے گی
نیورالنک انسانی دماغ میں چپ کیوں لگائی جائے گی

نیورالنک کا پہلا انسانی تجربہ

ایلون مسک کی کمپنی Neuralink نے فروری 2024 میں اعلان کیا کہ انہوں نے اپنا پہلا دماغی چِپ ایک مریض کے دماغ میں کامیابی سے نصب کیا ہے۔ اس مریض کا نام نولینڈ آربا (Noland Arbaugh) بتایا گیا جو کئی سال سے گردن کے نچلے حصے سے مفلوج تھے۔ اور اس تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ صرف امپلانٹ کے ذریعے وہ صرف اپنے دماغ کے سگنلز کی مدد سے کمپیوٹر کے ماؤس کرسر کو حرکت دینے میں کامیاب ہوئے۔ اور اس بات نے یہ ثابت کیا کہ انسان اور کمپیوٹر کے درمیان براہِ راست رابطہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ گرچہ پیچیدہ اعمال جیسے لکھائی، ڈریگ اینڈ ڈراپ یا طویل مدتی درستگی ابھی مکمل طور پر ممکن نہیں جو کہ دماغی علاج کے لیے بڑی امید بن گیا۔

انسانی دماغ اور مشین کا پہلی بار رابطہ

Neuralink نے مختصر وقت میں کئی اہم سنگِ میل عبور کیے ہیں۔ 2020 میں کمپنی نے ایک خنزیر (Gertrude) پر کامیاب تجربہ کیا، جس کے دماغی سگنلز کو براہِ راست کمپیوٹر پر دکھایا گیا۔ اگلے سال یعنی 2021 میں ایک بندر (Pager) نے صرف اپنے دماغی سگنلز کی مدد سے ویڈیو گیم کھیلی جس کے بعد 2024 میں امریکی ادارے FDA نے Neuralink کو انسانوں پر ٹیسٹ کرنے کی باضابطہ اجازت دی۔ بالآخر 2025 میں رپورٹ سامنے آئی کہ پہلا انسانی مریض صرف دماغ کے ذریعے کمپیوٹر کے کرسر کو حرکت دینے میں کامیاب ہوا جس سے انسان اور مشین کا براہ راست رابطہ ممکن ہوا۔

مسائل اور چیلنجز

اگرچہ ابتدا میں تجربہ کامیاب رہا، لیکن اس میں چند مسائل سامنے آئے رپورٹ کے مطابق دماغ میں نصب باریک تاروں (electrodes) کا کچھ حصہ اپنی اصل جگہ سے ہٹ گیا اور سگنلز کی مقدار میں کمی ہوگئی۔ یہ مسئلہ مستقبل کے ڈیزائن میں ایک اہم تکنیکی چیلنج سمجھا جا رہا ہے لیکن اس میں بہتری کی جانب سفر گامزن ہے اور کمپنی ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے پر امید ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں