ایپل نے منگل کو آئی فون 17 سیریز متعارف کرائی، جس میں کمپنی کا اب تک کا سب سے پتلا اسمارٹ فون شامل ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب کمپنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جنریٹو اے آئی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سیلیکون ویلی کی یہ ٹیکنالوجی کمپنی اپنا سالانہ آئی فون ایونٹ ایسے حالات میں منعقد کر رہی ہے جب وائٹ ہاؤس اس پر زور دے رہا ہے کہ وہ چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کم کرے، جبکہ سرمایہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا ایپل واقعی اے آئی کے دور کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
مزید یہ کہ کمپنی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بلند ٹیرف پالیسیوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، ریپبلکن صدر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک ایپل کے شیئرز 3 فیصد سے زیادہ گر چکے ہیں۔
ایپل ایک ایسے پروڈکٹ پر انحصار کر رہا ہے جس کے بارے میں اسے امید ہے کہ یہ آئی فونز کی بڑی نئی مانگ پیدا کرے گا اور صارفین کے پرانے فونز کو زیادہ دیر تک رکھنے کے رجحان کو توڑ دے گا۔
ای مارکیٹر کے تجزیہ کار گاجو سیویلا کے مطابق ’ایونٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپل خود کو اے آئی کی دوڑ کے مرکز سے الگ رکھ کر بالخصوص ہارڈویئر، سلکان اور ڈیوائس لیول انٹیگریشن میں طویل المدتی جدت طراز کے طور پر اپنی پوزیشن بنا رہا ہے‘۔


