برطانیہ میں جاری کردہ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابقگزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کے اسائلم کلیمز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے اور اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ پاکستانی شہری چھٹیوں، ورک اور اسٹوڈنٹ ویزوں میں موجود قانونی خلا کا فائدہ اٹھا تے ہیں اور اسائیلم اپلائی کر دیتے ہیں۔
گزشتہ برس تقریباً 10 ہزار پاکستانی شہروں نے قانونی ویزوں پر برطا نیہ مِن دا خل ہو کر ویزا تبدیل کر کے پناہ کے لیے درخواست دے دی جس کو برطانوی حکام "سسٹم کے غلط استعمال” کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ پاکستان کے سٹوڈنٹس کی جانب سے درخواستیں آئیں جن میں تقریباً 6 ہزار سے زائد افراد نے طالب علمی کے ویزے کو پناہ میں تبدیل کرنے مکی درخواست دی جبکہ ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد نے ورک ویزے سے اپنا اسٹیٹس بدلا جبکہ وزیٹر ویزے پر آنے والے پاکستانیوں میں سے بھی سیکڑوں افراد نے برطانیہ پہنچ کر اسائلم دائر کیا۔

برطانوی امیگریشن ریکارڈز کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر پناہ کی درخواستیں دینے والے مختلف ممالک کے افراد میں پاکستانی سرفہرست رہے۔ اس سے پہلے یہ رجحان زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے آنے والے افراد میں دیکھا جاتا تھا۔
پاکستان میں معاشی مشکلات، سیاسی بےیقینی، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور سیکیورٹی خدشات ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے لوگ قانونی ویزوں کے ذریعے برطانیہ پہنچ کر اسائلم کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
برطانوی اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق کچھ پاکستانی ایجنٹس بھاری رقوم کے عوض جعلی سپورٹنگ ڈاکومنٹس فراہم کرتے ہیں جن کی مدد سے لوگ قانونی ویزا حاصل کر لیتے ہیں اور بعد میں پناہ کی درخواست دائر کر دیتے ہیں۔ کچھ رپورٹس میں رقم 50 ہزار پاؤنڈ تک بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے
اسائلم پالیسی میں تبدیلی،حالات بہتری پر برطانیہ سے پناہ گزینوں کی واپسی – urdureport.com
ٹیوڈر تاج کیوں اہم ہو گیا،برطانیہ میں پھر ٹیودر تاج والے پاسپورٹ بنیں گے – urdureport.com
حکومتِ برطانیہ پناہ کے نظام میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے قوانین سخت کرنے پر غور کر رہی ہے کہ ان پناہ کی درخواستوں کو فوری نہ سنا جائے،اوور اسٹے اور اسٹیٹس تبدیلی کے کیسز میں سخت جانچ اور ایسے افراد کےلیے حکومتی رہائش کی فراہمی کو محدود کیا جائے دوسری جانب انسانی حقوق کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غیر معمولی سختی سے جائز درخواست گزار متاثر ہو سکتے ہیں۔

