نو سال پہلے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ سنسنی خیز خبر سامنے آئی کہ بلوچستان کے تین بھائی دن میں نارمل زندگی گزارتے ہیں لیکن سورج ڈوبتے ہی مکمل مفلوج ہو جاتے ہیں۔ ان کی یہ حیرت انگیز حالت دیکھ کر ہی انھیں ’سولر کڈز‘ کا نام دیا گیا۔ یہ خبر نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر کے طبّی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
سورج غروب ہوتے ہی مفلوج ہونے کی کیفیت
یہ بچے دن میں چلتے پھرتے، کھاتے پیتے اور عام انسانوں کی طرح تمام کام کر لیتے تھے، مگر جیسے ہی سورج غروب ہوتا، ان کا پورا جسم بے حس و حرکت ہو جاتا تھا۔ وہ بول نہیں پاتے تھے، چل نہیں سکتے تھے اور مکمل طور پر مفلوج ہو جاتے تھے۔ صبح سورج طلوع ہونے کے بعد ہی انھیں دوبارہ ہوش اور حرکت ملتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی حالت کو دنیا بھر کے ڈاکٹروں کے لیے ایک معمّہ سمجھا جاتا رہا۔

دنیا میں پہلی مرتبہ سامنے آنے والی بیماری
ان بچوں کے خون اور جینز کے نمونے پاکستان کے علاوہ برطانیہ اور دیگر ممالک کی لیبارٹریوں میں بھیجے گئے تا کہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ وہ کس بیماری کا شکار ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ وہ دنیا میں اپنی نوعیت کی بالکل نئی جینیاتی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے دماغ کے بیسل گینگلیا میں ڈوپامین نامی کیمیکل رات کے وقت تقریباً ختم ہو جاتا ہے، جس سے جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ یہ بیماری IVD جین کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور دنیا میں اب تک صرف اسی خاندان میں دیکھی گئی ہے۔
دوا سے زندگی میں پہلی بار رات کا معمول
سنہ 2016 میں اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ایک تجرباتی علاج کے دوران جب انھیں پہلی بار ڈوپامین کی گولی دی گئی تو حیرت انگیز طور پر وہ پہلی بار رات کے وقت اٹھ کر چلنے پھرنے لگے کیو نکہ ان کے جسم میں ڈوپامین نامی کیمیکل رات کے وقت تقریباً ختم ہو جاتا ہے اس گو لی سے وہ کھانا کھا سکے، بات چیت کر سکے اور خود واش روم بھی گئے۔ یہ ان کی زندگی کی پہلی رات تھی جو ایک صحتمند انسان کی طرح گزری، جسے ڈاکٹروں اور خود ان بچوں نے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔
تینوں بھائی اب بھی گولی کے محتاج
گزشتہ نو سال سے یہ تینوں بھائی روزانہ وہی ڈوپامین کی گولی کھا رہے ہیں جس سے وہ رات میں کچھ حد تک نارمل رہ سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دوا کا اثر کچھ گھنٹوں بعد ختم ہو جاتا ہے اور پھر ان کا جسم دوبارہ مفلوج ہو جاتا ہے۔ بیماری کی وجہ سے نہ تو وہ تعلیم حاصل کر سکے، نہ روزگار۔ آج بھی وہ معاشی طور پر مکمل طور پر والدین پر انحصار کرتے ہیں۔
سولر کڈز میں شامل شعیب احمد سب سے بڑے ہیں اور اُن کی عمر اس وقت 19 سال ہے۔ اُن سے چھوٹے بھائی رشید احمد کی عمر 17 سال کے لگ بھگ ہے جبکہ تیسرے بھائی محمد الیاس کی عمر کم ہے۔
غربت اور علاج کے اخراجات: خاندان کی سب سے بڑی مشکل
ان سولر کڈز کے والد محمد ہاشم بطور سکیورٹی گارڈ کام کرتے ہیں اور مہنگی دوا خریدنا ان کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ دوا کے بغیر بچے رات میں بالکل مفلوج ہو جاتے ہیں، اور گھر سے باہر جانے پر بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں گر نہ جائیں۔ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے مالی مدد، وظیفہ اور مستقل علاج کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔
پاکستان میں جینیاتی بیماریوں کی بڑی وجہ
ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق پاکستان میں کزن میرج (خاندان میں شادیاں) بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے جینیاتی بیماریاں عام ہیں، اور اسی وجہ سے نایاب امراض یہاں دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ سامنے آتے ہیں۔ سولر کڈز کی بیماری بھی اسی جینیاتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق اس بیماری پر تحقیق اب بھی جاری ہے تاکہ مستقبل میں اس کا مکمل علاج دریافت کیا جا سکے۔
