انڈیا کی ریاست اڑیسہ میں 4 جنوری کو ایک واقعہ پیش آیا جس میں ایک پادری کو زد کوب کیا گیا اور مندری کے سامنے سجدے کرنے پر مجبور کیا گیا
لیکن یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں مسیحی پادری کو زدوکوب کرنے کے الزام میں پولیس نے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ کئی اور مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
ایس پی ابھینو سونکر نے بتایا کہ بدھ کے روز چار مشتبہ افراد کو پادری پر حملہ اور زدوکوب کرنے کے معاملے میں حراست میں لیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
دھین کنال ضلع کے پادری بپن بہاری نائک کی بیوی وندنا کی شکایت کے مطابق ان کے شوہر قریب کے ایک گاؤں میں اپنے ایک دوست سے ملنے گئے تھے۔
’وہاں وہ مقامی مسیجی برادری کے لیے دعا اور عبادت کر رہے تھے کہ اچانک وہاں مبینہ طور پر دائیں بازو کی ایک ہندو تنطیم سے تعلق رکھنے والے پندرہ بیس لوگ پہنچ گئے جنھوں نے پادری نائک پر جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔‘
’ہجوم نے انھیں پکڑ لیا اور ان کے چغے اور چہرے پر سندور مل دیا۔ انھیں مارا پیٹا اور گلے میں چپلوں کا ہار پہنا کر گاؤں میں گھمایا گیا۔‘
یہ بھی پڑھئیے
ایران میں اموات کے ذمہ دار صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں،آیت اللہ خامنہ ای – urdureport.com
انڈین کپتان سوریا کمار یادیو نے بالی ووڈ اداکارہ پر ایک سو کروڑ کا دعویٰ کر دیا – urdureport.com
ہمیں جوائن کریں
(3) Urdu Report (@UrduReportpk) / X
بعض اطلاعات کے مطابق پادری کو مبینہ طور پر جبراً گوبر بھی کھلایا گیا تاہم ایس پی پولیس ابھینو سونکر کے مطابق گوبر کھلانے کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
پادری نائک کی اہلیہ نے بتایا کہ پہلے یہ شکایت مقامی پولیس سٹیشن میں اسی روز درج کروائیتاہم کاروائی نہ ہو نے پر سپریٹنڈنٹ آف پولیس ابھینو سونکر سے رجوع کیا جس کے بعد پولیس نے 13 جنوری کو باضابطہ کیس درج کیا۔

