وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاھور بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں ہے،کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دلوایا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندان کو مالی امداد فراہم کی جا سکے۔

مریم نواز نے کہا کہ حادثہ ناقابل برداشت ہے اور لاہور جیسے بڑے شہر میں یہ ہرگز قابل قبول نہیں،ٹیپا اور واسا سے ذمہ داران کے نام کیوں نہیں سامنے لائے گئے اور گرفتاریاں کیوں نہیں کی گئیں،یہ مجرمانہ غفلت ہے۔مریم نواز نے کہا کہ حادثے کو دبا کر معمولی شکل دینے کی کوشش کی گئی، لیکن اب انصاف ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حادثے کی جگہ تعمیراتی کام جاری تھا، سیوریج لائن انتہائی اونچی تھی ،ماں اور بیٹی لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے گھر آئے ہوئے تھے اور حادثے سے قبل رکشے پر سوار ہو رہی تھیں۔ حادثے کی جگہ پر اندھیرا تھا اور لائٹنگ کا انتظام موجود نہیں تھا، جس سے سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔
مزید پڑھئِے
لاہور: سیوریج لائن میں گرنے والی ماں کے بعد معصوم بچی کی لاش بھی برامد – urdureport.com
مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم عمر طلبہ کو گرفتار کرنے سے روک دیا – urdureport.com
مریم نواز نے کہا کہ سائٹ پر موجود تمام لوگ واقعے کے ذمہ دار ہیں اور ایک نہیں بلکہ کئی مین ہول کھلے ہوئے تھے۔ تعمیراتی کام کے دوران انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، ماں کی لاش کل اور بچی کی لاش آج ڈھونڈی گئی۔
وزیراعلیٰ نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پینافلیکس لگا کر سائٹ بند کر دی گئی، روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا، اور جن لوگوں نے سائٹ کو کھلا چھوڑا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی کیمروں اور CCTV کی جانچ میں وقت لگتا ہے، یہ راجن پور یا لیہ کی نہیں، لاہور کی بات ہے۔


