تحریک لبیک پاکستان کے خلاف پنجاب میں کریک ڈاون جاری جبکہ آج جمعہ کو مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کی کال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر طرح کے جلسے، جلوس یا احتجاج پر پابندی عائد کر دی ہے ۔
بلوچستان کے صدر وزیر احمد رضوی نے بھی نے کارکنوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 17 اکتوبر (آج) لاہور کے داتا دربار پر جمع ہوں، انٹیلی جنس رپورٹس میں بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ جمعے کی نماز کے بعد ٹی ایل پی کے کارکن پرتشدد جھڑپوں اور وسیع پیمانے پر ہنگامہ آرائی میں ملوث ہو سکتے ہیں
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلِیٰ سہیل آفریدی نے بھی تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ عمران خان کے حکم پر وہ جمعہ کو سڑکوں پر نکلیں اور پُرامن احتجاج کریں۔ تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی اپنی ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ’تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف پورے خیبر پختونخوا میں پرامن احتجاج کیا جائے گا۔‘
یہ بھی پڑھیں
ٹی ایل پی احتجاج کنیٹینرز سے جڑواں شہر بند لاھور میں سخت احتجاج جاری – urdureport.com
تحریک لبیک پاکستان کے خلاف مریدکے میں ہونے والے پولیس کارروائی کے خلاف سنی مسلک کی جماعتوں پر مشتمل گروپ ’تنظیم اہلسنت‘ نے جمعہ کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔دوسری جانب انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
’تنظیم اہلسنت‘ نے ان واقعات پر عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے۔ ’تنظیم اہلسنت‘ میں جمعیت علمائے پاکستان، منہاج القرآن، سنی تحریک، جماعت اہلسنت اور سنی اتحاد کونسل جیسے گروپس شامل ہیں۔
دریں اثنا تحریک لبیک پاکستان کے خلاف پنجاب سمیت ملک کے دیگر شہروں میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔

