تحریر طارق اقبال چوہدری

ٹورنٹو کے سنٹرل آئی لینڈ پر واقع ایک قدیم اور تاریخی جبرالٹر پوائنٹ لائٹ ہاوس صدیوں گزر جانے کے باوجود آج بھی ماضی کی ایک زندہ مثال بن کر کھڑا ہے جو کہ دو سو سال قبل سمندر میں بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے تعمیر کیا گیا،یہ لائٹ ہاوس اپنی خوبصورتی اور پراسرار ماضی کے باعث آج بھی سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے جہاںسیاح آج بھی دو صدیوں قبل پر اسرار طور پر مقتول پہلے ہاوس کیپر کی روح کی آوازیں سننے جاتے ہیں۔
لائٹ ہاوس کی اہمیت

ابتدا میں جبرالٹر پوائنٹ لائٹ ہاؤس میں بحری جہازوں کی روشنی کے لیے وہیل مچھلی کے تیل سے جلنے والی لالٹین استعمال ہوتی تھی، بعد میں گیس اور پھر بجلی کا نظام لگا دیا گیا۔ اور دھند میں یہاں کچھ تیز آوازوں کا بھی بندوبست کیا گیا تا کہ بحری جہاز درست سمت اختیار کر سکیں۔
یہ لائٹ ہاؤس Lake Ontario کے کنارے واقع ہے اور اردگرد کے سبزے، ساحلی ہوا اور خاموش ماحول کی وجہ سے ایک خوبصورت اور پُرسکون منظر پیش کرتا ہے۔یہا ں سیاح سیر کو آتے ہیں اور اس میں چھپے پر اسرار رازوں سے پردہ اٹھانے کی کو شش کر تے ہیں۔
لائٹ ہاوس کی تعمیر
یہ لائٹ ہاؤس 1808ء میں تعمیر کیا گیا تھا، جب ٹورنٹو جس کو اس وقت yorkکے نام سے پکارا جاتا تھا کو اُس وقت اس دور میں شہر کی بندرگاہ میں داخل ہونے والے جہازوں کو رہنمائی کے لیے ایک روشنی کی ضرورت تھی تاکہ وہ رات یا دھند کے دوران ساحل سے ٹکرانے سے محفوظ رہ سکیں۔ اس وقت اس مقصد کے لیے یہ لائٹ ہاؤس تعمیر کیا گیا جو اُس زمانے میں ٹورنٹو کی سمندری تجارت کا ایک اہم نشان تھا۔

لائٹ ہاوس سے جڑی پراسرار قتل کی داستان
اس لائٹ ہاؤس کے ساتھ ایک دلچسپ اور پراسرار کہانی جڑی ہوئی ہے اور یہاں اس کو کندہ بھی کیا گیا ہے یہا ں جو سیاح سنٹرل آئی لینڈ کی سیر کو پہنچتے ہیں تو ان کے ذہن میں جبرالٹر پوائنٹ لائت ہاوس اور اس کے پہلے ہاوس کیپر کے قتل کی کہانی گھوم رہی ہو تی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس کو لائٹ ہاوس سے چند فٹ پرے قتل کر دیا گیا اور آج دن تک اس کے قتل کا معمہ حل نہیں ہو سکا اور اس کی روح اب بھی اس ساحل پر موجود جنگل میں گھوم رہی ہے اور رات کی تاریکی یا بعض اوقات سناتا ہو اور دن کی ہلکی روشنی میں آوازین دینا شروع کر دیتی ہے شاید اب بھی پہلے ہاوس کیپر کی روح انصاف کی متقاضی ہے۔
پہلے ہاوس کیپر کی داستان کو جہ اب بھی لائٹ ہاوس کے اوپر ایک بورڈ پر لکھی گئی ہے کہ 1815 میں جب اس کو قتل کای گیا تو اس کے بعد ایک انسانی ڈھانچہ قریب سے ملا اور اس وقت سے یہ لائٹ پراسرایت میں ڈوبا ہوا ہے۔
روایت کے مطابق اس کی روح آج بھی لائٹ ہاؤس کے آس پاس بھٹکتی ہے۔ رات کے وقت بعض لوگ روشنیوں کے بدلتے رنگ اور سرگوشیوں جیسی آوازوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی لیے اسے “Haunted Lighthouse of Toronto” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ 1815ء میں یہاں کے پہلے لائٹ ہاؤس کیپر جان پال ریڈلمولر (John Paul Radelmüller) کو ایک جھگڑے میں قتل کر دیا گیا تھا اور بعض کہانیوں میں اس قتل کو اور بھی منفرد انداز میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

ٹورنٹو میں مقیم سینیر صحافی عمران یعقوب ڈھلوں جو کہ جبرالٹر پوائنٹ لائٹ ہاوس کی سیر کے وقت ہمارے ہمراہ تھے ان کا یہ خیال ہے کہ لا ئٹ ہاوس کے ساتھ اس جڑی اس قتل کے وقوعہ کے بعد روح کے گھومنے اور آوازیں نکالنے کی کہانی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں لگتا اور اس کہانی کو آج دن تک اس لیے زندہ رکھا گیا ہے تا کہ سیاح ایک تجسس لیے لائٹ ہاوس کی سیر کو کھینچے چلے آئیں۔
Gibraltar Point Lighthouse تقریباً 25 میٹر (82 فٹ) بلند ہے اور اسے مضبوط چونا پتھر (limestone) سے بنایا گیا ہے۔ اس کی ساخت مخروطی یعنی گولائی میں اوپر اٹھتی ہوئی ہے اور اوپر کے حصے میں ایک لال رنگ کی روشنی والا حصہ نصب تھا۔


1950ء کی دہائی میں یہ لائٹ ہاؤس باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا، لیکن اسے کینیڈا کی حکومت نے قومی تاریخی یادگار (National Historic Site) کے طور پر محفوظ کر لیا۔ آج یہ مقام ٹورنٹو آنے والے سیاحوں کے لیے جزیرے کی سب سے دلچسپ جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔
جبرالٹر پوائنٹ لائٹ ہاوس پر خصوصی وی لاگ
بحالی کے بعد Gibraltar Point Lighthouse اب یہ لائٹ ہاوس صرف ایک سیاحتی نشان کے طور پر زندہ ہے۔ اس کے اردگرد کے ساحل اور قدرتی مناظر اسے ٹورنٹو کے سنٹرل آئی لینڈ کا دلکش حصہ بنا دیتے ہیں۔
یہ عمارت نہ صرف ٹورنٹو کی ابتدائی تاریخ کا گواہ ہے بلکہ اپنے اندر ایک پراسرار داستان بھی سموئے ہوئے ہے جو آج تک لوگوں کے دلوں میں تجسس پیدا کرتی ہے اور بعض اوقات سیاح یہا ں لائٹ ہاوس کی تاریخ کو جاننے کی بجائے اس کے پہلے ہاوس کیپر کی روھ کی آوازیں سننے کے لیے چلے آتے ہیں۔
یہ پڑھئیے
ٹورنٹو کی ‘ڈانڈس’ سٹریٹ جس نام سے ہی لاکھوں غلام زندگی کی بازی ہار گئے – urdureport.com
کینیڈا کا مری "بینف” جہا ں کیسے قدرت اپنی خوبصورتی خود بیان کر تی ہے – urdureport.com

