تحریر :طارق اقبال چوہدری

سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو جب نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمے میں پھانسی کا حکم سنایا گیا تو وہ جیل میں آخری دن تک یہی محسوس کرتے رہے کہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا فیصلہ ہے جو کہ بالاخر تبدیل ہوگا مگر ایسا نہ ہوا، چار اپریل 1979 کو ٹھیک دو بج کا چار منٹ پر جلاد تارا مسیح نے لیور کھینچ دیا اور پھانسی گھاٹ میں بہت دیر تک خاموشی چھائی رہی۔

بھٹو کے کارنامے
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو جس کی پھانسی کی سزا آج دن تک پاکستان کی عدلیہ کے ماتھے پر ایک داغ کی صورت لگا ہوا ہے ،یہ وہ وزیر اعظم جو کہ عوامی طاقت سے آیا جس نے پاکستان کا 1973 کا متفقہ آئین منظور کرایا جو آج بھی نافذ ہے مگر اس کے خالق کو بے آئین کر کے مارا گ یا۔ بھٹو اٹیمی پروگرام کے خالق تھے جس پر آج قوم کو فخر ہے۔
بھٹو نے 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی جس کا انہوں نے جیل کے دنو ں میں ذکر کیا،1972ء کے شملہ معاہدے کے ذریعے بھارت سے قیدیوں کی واپس کرائی جو کہ ان کی اعلیٰ سفارتکاری کا عملی نمونہ تھی،ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں (احمدیوں) کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا مگر جب ان کو پھانسی دی گئی تو بقول کرنل رفیع الدین ان کی تصاویر اتاری گئی جن سے حکام کو یہ شک دور ہو گیا کہ ان کے ختنے نہیں ہو ئے تھے، بھٹو صاحب کے اسلامی طریقے سے ختنے ہو ئے تھے۔
صدارتی ریفرنس کیوں دائر ہوا
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی نصف صدی بعد سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے سناتے ہوئے کہتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا۔ یہ ریفرنس صدر آصف علی زرداری نے اپریل 2011 میں اس وقت دائر کیا تھا جب سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کی عدالت سے یکے بعد دیگرے ان کے خلاف ریمارکس آبزرویشنز اور فیصلے آرہے تھے۔ اس وقت میں خود روز نامہ جنگ کے لیے سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرتا تھا اور یہ واقعات ہمارے سامنے رونما ہو رہے تھے۔ بلا شبہ اس صدارتی ریفرنس کا ایک سیاسی پہلو موجود تھا اور اس وقت صدر اصف علی زرداری کے بہت ہی قریبی دوست وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے آئین کے ارٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان میں یہ ریفرنس دائر کیا (انہو ں نے ریفرنس میں وکالت کے لیے اپنی وزارت کی قربانی دی تاہم بعد میں پیپلز پارٹی نے وکیل کو تبدیل کر دیا)جس پر چھ مارچ 2024 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سربراہی میں نو رکنی بینچ نے اپنی رائے دی۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے جیل میں آخری 323 دن کے حوالے سے مارشل لا انتظامیہ کی جانب سے بھٹو کی آسیری کے دوران 17مئی سے 1977سے لیکر بھٹو کی پھانسی کے دن چار اپریل 1979تک سینٹرل جیل راولپنڈی میں سکیورٹی سپرنٹنڈنٹ کے فرائض سر انجام دینے والے کرنل رفیع الدین نے اپنے مشاہدات اور انکشافات کو ایک کتاب کی صورت میں تحریر کیا ہے ۔اس کتاب کا حاجی حنیف پرنٹرز ، احمد پبلی کیشنز لاھور نے نومبر 1991میں پہلا ایدیشن شائع کیا پھر اس کے بعد کئی ایڈیشنز شائع کیے گئے اور کتاب میں کرنل رفیع الدین کے جیو ٹی وی کے اینکر پرسن افتخار احمد کو دئیے گئے انٹریو کو بھی شامل کیا گیا جو کہ جیو ٹی وی نے یکم اپریل 2007 کو نشر کیا۔کرنل رفیع الدین ایک بار لکھتے ہیں کہ جنرل ضیا الحق سے ایک مرتبہ میں نے کہا کہ میرے کچھ دوست مجھے مشورہ دے رہے ہیں کہ مجھے اپنی یا یاداشتیں لکھنی چاہیں تو جنرل ضیا الحق نے میں اپنے دماغ کو ٹھنڈا رکھوں اور مردوں کو قبروں سے نکالنے کی کو شش نہ کروں۔
سابق سکیورٹی سپرنٹنڈنٹ کرنل رفیع الدین لکھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک بار کہا کہ
"میری پارٹی کو مردہ بھٹو کی ضرورت تھی زندہ بھٹو کی نہیں”
اس کتاب میں بعض اوقات انتہائی اشکبار اور دل دہلا دینے والے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔کرنل رفیع دین اپنے مشاہدات میں لکھتے ہیں کہ دو اپریل 1979 کی شام آخری فیصلہ کیا گیا کہ بھٹو صاحب کو تین اور چار اپریل 1979 کے درمیانی رات دو بجے پھانسی دے دی جائے۔

بھٹو خواتین کی آخری ملاقات کی کہانی
ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کی آخری ملاقات کرائی گئی اور اس ملاقات میں بھی بھٹو صاحب اور ان کے اہل خانہ کے درمیان آہنی سلاخین حائل رہیں بے نظیر اشکبار انکھوں کے ساتھ ان سے باتیں کر رہی تھیں لیکن باپ آخری ملاقات میں بھی اپنی بیٹی کو پیار نہ کر سکا، گلے نہ لگا سکا۔ بے نظیر بھٹو جو کہ 1972میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مشہور شملہ معاہدہ کے وقت انڈیا میں موجود تھیں جہاں پر بھٹو نے اس کا تعارف انڈین وزیر اعظم سےکروایا ،بھٹو نے اس وقت بے نظیر کی سیاسی تربیت کا بھی آغاز کر دیا۔
کرنل رفیع الدین لکھتے ہیں کہ
۔3 اپریل 1979 صبح سویرے بھٹو خواتین کو سہالہ ریسٹ یہاں پر جہاں پر ان کو رکھا گیا تھا وہاں ملاقات کی اطلاع کر دی گئی ان کو لانے والی گاڑی جیل میں 11 بج کر 15 منٹ پر داخل ہوئی جیل سپر نٹنڈنٹ نے ان کو بتایا کہ یہ ان کی آخری ملاقات ہے۔ملاقات کے دوران بھٹو صاحب سیل کے اندر رہے اور باہر سے لوہے والے جنگلے پر تالا رہا بیگم نصرت بھٹو کے لیے سیل کے دروازے کے ساتھ باہر کرسی لگا دی گئی جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو سیل کے جنگلے کے باہر دلان کے فرش پر بیٹھ گئیں اور باپ بیٹی کے درمیان سیل کے آہنی گیٹ کی سلاخیں حائل رہیں۔
” یہ ملاقات بعد دوپہر دو بجے تک جاری رہی۔اس موقع پر مسٹر بھٹو نے جیل سپریڈنٹ سے پوچھا کہ ان کے آخری فیصلے کا کیا ہوا اور اس پر یار محمد نے جواب دیا کہ وہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے، پھر بھٹو صاحب نے پوچھا کہ کس وقت(پھانسی کا وقت) انہوں نے جواب دیا معمول کے مطابق یعنی صبح ساڑھے پانچ بجے اور بھٹو صاحب نے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ کہا کہ بس سب ختم اور اس نے جواب دیا جی جناب”۔
کرنل رفیع الدین مزید کہتے ہیں کہ "جیل ” سپرٹینڈنٹ کے ہٹ جانے کے بعد باپ بیٹی نے اپنی باتیں شروع کر دی بیگم نصرت بھٹو تقریبا پوری ملاقات میں خاموش رہی محترمہ بے نظیر زیادہ وقت روتی رہی اور بھٹو صاحب سے باتیں کرتی رہی بھٹوز نے چاہا کہ وہ ملاقات جاری رہے لیکن جیل حکام نے دو بجے بعد دوپہر ملاقات ختم کرا دی یہ آخری ملاقات تقریبا آڑھائی گھنٹے جاری رہی”۔

” محترمہ بے نظیر بھٹو نے سن گلاسز پہن رکھے تھے جن کے شیشے اوپر گہرے اور نیچے ہلکے رنگ کے تھے ان کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ اور سوجی ہوئی دکھائی دے رہی تھی جبکہ بیگم بھٹو نے مجھے اپنے نزدیک بلا کر بتایا کہ وہ جنرل ضیاء الحق سے ذاتی رحم کی اپیل کرنا چاہتی ہیں مجھے محترمہ بے نظیر نے بتایا کہ اگر یہی فیصلہ رہا تو بھٹو صاحب اپنے علاقے لاڑکانہ میں دفن ہونا چاہیں گے۔ کرنل رفع الدین کہتے ہیں کہ سیکیورٹی چونکہ بہت زیادہ وہاں پر ٹائٹ تھی اور جب ہم ڈیڑھی سے گزر رہے تھے تو موقع پاکر میں نے بیگم بھٹو کے کان میں کہا کہ بھٹو صاحب کی میت لاڑکانہ ہی کی طرف لے جائے گی”کرنل رفع الدین کے مطابق باقی رشتہ داروں سے ملاقاتیں کرانے کا طے ہوا تھا لیکن نہ وہ سکیں۔
بھٹو کو کوٹھٹری میں پھانسی کی اطلاح کب ہوئی
کرنل رفیع الدین لکھتے ہیں کہ تین اپریل شام چھ بجے مسٹر بھٹو کے سیل میں جا کر جیل سپرٹینڈنٹ مسٹر یار محمد سکیورٹی بٹالین کمانڈر لیفٹینٹ کرنل رفیع الدین، مجسٹریٹ درجہ اول مسٹر بشیر احمد خان اور جیل ڈاکٹر مسٹر صغیر حسین شاہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی اطلاع دی اور ان کو بتایا کہ اپ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائی کورٹ نے 18 مارچ 1978 کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی تھی اپ کی اپیل سپریم کورٹ پاکستان نے چھ فروری 1979 کو نا منظور کر دی اور ریویو پٹیشن بھی 24 مارچ 1979 کو نا منظور کر دیا گیا صدر پاکستان نے اس کیس میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے اپ کو اپ پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔
یہاں پر کرنل رفیع الدین ذوالفقار علی بھٹو کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں اور ایک موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں جیل سپریڈنٹ یہ حکم سنا رہا تھا تو بھٹو صاحب گدے پر اسی طرح بغیر کسی گھبراہٹ یا پریشانی کے لیٹے رہے بلکہ ان کے جسم اور چہرے پر نرم و نازک ڈھیلا پن اور مسکراہٹ نمودار رہی۔بھٹو صاحب نے جس خندہ پیشانی کے ساتھ اپنی پھانسی کی خبر سنی اس پر میں نہ صرف حیران ہوا بلکہ میرے اندر میرا ضمیر مجھ سے بغاوت کر رہا تھا،مجھے اپنے اندر سے آواز سنائی دے رہی تھی کہ اس شخص کی موت ہماری قوم اور ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑا المیہ ثابت ہوگی۔
بھٹو کی آخری شکایات
کرنل رفیع دین کے مطابق بھٹو صاحب کی ایک شکایت تھی کہ میری پھانسی کا کوئی لکھا ہوا مجھے ابھی تک نہیں دکھایا گیا اور اس وقت بھٹو صاحب نے جو مطالبہ کیے اس میں یہ تھا کہ میں اپنے وکلا کو جتنی جلد ہو سکے ملنا چاہتا ہوں اور میرے دوسرے رشتہ داروں کو بھی مجھ سے ملنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ بھٹو صاحب نے ایک اور مطالبہ بھی کیا کہ میرے دانت بہت سخت خراب ہے اور میں اپنے معالج مسٹر ظفر نیازی سے فورا ملنا چاہوں گا لیکن بھٹو صاحب کے ان الفاظ کے فورا بعد مسٹر بشیر احمد خان نے اپنے اپ کو متعارف کرایا اور بھٹو صاحب سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنی وصیت لکھ سکتے ہیں اس وقت بھٹو صاحب نے ایک اور شکایت کی کہنے لگے میرے پیٹ میں لاغری (کمزوری) ہے ۔
اس سے قبل چو نکہ ذوالفقار علی بھٹو بھوک ہڑتال کر چکے تھے تو کرنال رفیع الدین کہنے لگے "اپ کے جسم کو قوت کے لیے خوراک چاہیے اپ نے کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا جس پر مسٹر بھٹو نے مجھے تھپتھپایا انہوں نے بے حد ہمت دکھائی اور وہ اس وقت تک مسکرا رہے تھے”
ذوالفقار علی بھٹو نے فوری طور پر اپنے مشقتی عبدالرحمن کو آواز دی بھٹو صاحب نے اسے گرم پانی لانے کو کہا اور کہنے لگے کہ میں ملاں نہیں ہوں مجھے ایسے اللہ تعالیٰ کے سامنے نہیں جانا مجھے شیو کر نی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے کہتا ہے پھر مجھ سے پوچھا رفیع یہ کیا ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے تو کرنل رفیع الدین کہتے ہیں میں نے کبھی اپ کے ساتھ مذاق کیا ہے انہوں نے فوراً کہا تمہارا کیا مطلب ہے پھر دہرایا تمہارا کیا مطلب ہے میں نے جواب دیا جناب آخری حکم مل گیا ہے آج اپ کو پھانسی دی جا رہی ہے، مسٹر بھٹو میں پہلے مرتبہ میں نے وحشت کے اثار دیکھے انہوں نے اونچی آواز میں اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے کہا بس ختم بس ختم تو میں نے جواب میں کہا جی جناب۔

میں غریبوں کا لیڈر ہوں
بے شک ذوالفقار علی بھٹو ایک بڑے لیڈر کے طور پر نہ صرف ملک میں بلکہ مسلم دنیا میں بھی نمایاں ہو رہے جب بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔۔1976ء میں امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو براہِ راست دھمکی دی: "If you make the bomb, we will make a horrible example out of you.” یعنی "اگر تم نے ایٹم بم بنایا تو ہم تمہیں عبرتناک مثال بنا دیں گے۔” بعد میں بھٹو نے اپنی کتاب “If I Am Assassinated” میں اس دھمکی کا ذکر کیا۔کرنل رفیع دین کے مطابق بھٹو نے شام سات بج کر پانچ منٹ پر شیو بنائی اور شیو کے دوران انہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ خواجہ غلام رسول سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ڈپٹی صاحب اپ لوگوں کو ایسا لیڈر کہاں سے ملے گا مگر اپ کو ضرورت ہی کیا ہے ضرورت تو غریبوں کو تھی،میں موچی دروازے میں موچیوں کے سامنے تقریریں کیا کرتا تھا کیونکہ میں خود موچی ہوں تم لوگ غریبوں کا لیڈر چھین رہے ہو میں انقلابی آدمی ہوں غریبوں کا حامی یار مجھے مارنا ہی تھا تو دو سال خراب کیوں کیا میری عزت کیوں نہیں کی۔ دوسرے مجرموں سے جھوٹ بکواس کرا کر مجھے پھانسی کے پھندے پر چڑھا کر انہیں چھوڑنا چاہتے ہو کہتے ہیں پھر انہوں نے باہر والے سنتری کو بلایا اور ڈپٹی صاحب سے کہا میرے مرنے کے بعد یہ گھڑی اس سپاہی کو دے دینا۔
جب مشقتی عبدالرحمان نے بھٹو صاحب کے کہنے پر کافی کا کپ بنا کر دیا تو بھٹو صاحب کی انکھوں میں آنسو اگئے اور انہوں نے اس سے کہا رحمان مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو مجھے معاف کر دینا پھانسی تو لگ ہی جانا ہے آج میری آخری رات تیرے ساتھ ہے میں صرف چند گھنٹوں کے لیے تیرا مہمان ہوں۔
بھٹو کی وصیت کا کیا بنا
کرنل رفیع دین کہتے ہیں کہ ہیں بھٹو صاحب آٹھ بج ک 15 منٹ سے نو بج کر 40 منٹ تک اپنے وصیت لھکتے رہے اس کے بعد تقریبا 10 منٹ وہ ٹیبل پر شیشہ، کنگھی، بالوں کا برش، تیل کی بوتل اور جائے نماز تولیہ بچھا کر اس کے اوپر رکھتے اور ہٹاتے رہے پھر نو بج کر 55 منٹ تک اپنے دانت برش کے ساتھ صاف کیے اور منہ ہاتھ دھویا بالوں کو کنگھی سے سنوارا پھر تقریبا پانچ منٹ کے لیے سگار کی راکھ اور چند جلے ہوئے کاغذوں کی راکھ ایک کاغذ کی مدد سے صاف کرتے رہے ۔ بھٹو نے وصیت کے لیے کاغذوں پر کچھ لکھا اس کو جلا دیا تھا۔
11 بج کر 10 منٹ پر سیل کھولا گیا اور مشقتی عبدالرحمن اندر گیا برش سے فرش صاف کیا اور ساری راکھ باہر نکال دی پھر سیل بند ہوا اور بھٹو صاحب خاموشی سے لیٹ گئے کچھ دیر بعد لیٹے ہوئے انہوں نے صنم صنم پکارا
کرنل رفیع الدین لکھتے ہیں کہ مجسٹریٹ مسٹر بشیر احمد خان نے مسٹر بھٹو سے کہا تھا کیا وہ کوئی وصیت چھوڑنا چاہتے ہیں تو بھٹو صاحب خاموش رہے ان کی اواز بے حد کمزور تھی اور صاف سنائی نہ دے رہی تھی اور کوشش کر کے کہا کہ میں نے کوشش کی لیکن میرے خیالات اتنے درہم برہم تھے کہ میں نہ لکھ سکا میں نے اسے جلا دیا۔
جب تارا مسیح نے پھانسی گھاٹ پر لیور کھینچا
جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی گھاٹ کی طرف لے جانے کے لیے چار وارڈز اندر لینے آئے تو دو نے بھٹو صاحب کے بازو اور دو نے ان کے پاؤں اور ٹانگیں پکڑ کر ان کو اوپر اٹھایا جب ان کو اٹھایا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا مجھے چھوڑ دو ان کی کمر تقریباً فرش کے ساتھ لگ رہی تھی ان کی قمیض کا پچھلا حصہ ان کے وارڈوں جو ان کی ٹانگوں کو پکڑے ہوئے تھے کہ پاؤں کے نیچے آیا اور قمیض پھٹنے کی آواز ائی وہ قمیض میں نے معائنہ تو نہیں کیا لیکن وہ بازوں کے نیچے تک ضرور اتر چکی ہوگی یعنی ٹانکے کھل گئے ہوں گے۔
میں یہ سب دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالی کی شان دیکھیے کہ جیل کی دیوار کے پار پرائم منسٹر ہاؤس میں بھٹو صاحب نے جو بھی چاہا دنیا کے کسی بھی حصے سے ان کے لیے فوراً مہیا کیا گیا اور اج ان کی اخری اور معمولی سی خواہش بھی پوری نہ ہو سکی کہ چائے کی ایک پیالی ہی پی سکیں۔
کرنل رفیع الدین ذوالفقار علی بھٹو کے آخری لمحات کا ذکر کچھ اس انداز میں کرتے ہیں کہتے ہیں کہ سیل سے تقریبا 200 یا 250 گز پھانسی گھاٹ تک وہ بالکل خاموش اور بغیر حرکت کے رہے پھانسی کی جگہ وارڈوں نے اسٹریچر کو زمین پر رکھا اور دو نے بھٹو صاحب کی بغلوں کے نیچے سے مدد کی اور پھانسی کے تختے پر کھڑے ہو گئے میں بھٹو صاحب کے نزدیک ترین رہا ان کے ہاتھوں سے ہھتکڑی نکال کر ان کے بازو اور ہاتھ ان کی کمر کے پیچھے ایک جھٹکے سے لے گئے اور پھر ہتھکڑی لگا دی گئی اسی دوران تارا مسیح نے ان کے سر اور چہرے پر ماسک چڑھا دیا ۔۔۔ کلائیوں کو دبایا جس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہوئی۔

جلاد(تارا مسیح) نے لیور دبایا اور بھٹو صاحب ایک جھٹکے کے ساتھ پھانسی کے کنویں میں گر پڑے۔ میں اوپر سے سیڑھیوں کے ذریعے اتر کر کنویں کے کھلے رخ نیچے گیا اور دیکھا کہ بھٹو صاحب کا جسم معمولی ہل رہا تھا جو اوپر سے نیچے گرنے کی وجہ سے تھا لیکن اس وقت مردہ حالت میں تھے میں انسپیکٹر جنرل جیل خانہ جات کے پاس ان کی کرسیوں پر آکر بیٹھ گیا جو لٹکی ہوئی لاش کے سامنے رکھی ہوئی تھی۔
قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے ایک جانب ملک کے پرائم منسٹر کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا تو دوسری جانب ان کے کلائی میں پہنی ہوئی گھڑی کی ملکیت پر جیل کے اندر ہی تنازعہ کھڑا ہوا کنا رفیع الدین کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ ان کی پھانسی کے بعد ان کی گھڑی اس وقت کے سنتری کو دے دی جائے ،موت کے بعد جیل سپریڈنٹ نے کہا تھا کہ یہ قانونی طور پر ان کی ملکیت ہونی چاہیے میں اس وقت سوچ رہا تھا کہ کسی نے خوب کہا ہے کہ بکرے کو جان کی اور قصاب کو چربی کی پھر کرنا رفیع الدین کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب کی انگوٹھی بھی اتار لی گئی تھی ان کی انگشتری ہاتھ میںنہیں تھی جب بھٹو صاحب میرے سامنے بیٹھ کر گپ شپ لگایا کرتے تھے تو عموما اپنی انگشتری کے ساتھ کھیلتے،وہ انگشتری تلاشی لینے پر تارا مسیح کی جیب سے نکلی۔بعد میں یہ دونو ں چیزیں بیگم بھٹو صاحبہ کے حوالے کر دی۔
کرنل رفیع الدین کہتے ہیں کہ چار اپریل 1979 کو ٹھیک دو بج کا چار منٹ پر جلاد تارا مسیح نے لیور کھینچ دیا اور پھانسی گھاٹ میں بہت دیر تک خاموشی چھائی رہی۔

