سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں بارز اور شراب خانوں کے قیام کی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ چیزیں عام سمجھی جاتی ہیں۔جس نے شراب پینی ہے وہ پیے اور جس نے نہیں پینی وہ نہ پیے۔

حال ہی میں وہ شازیہ ذیشان کے یوٹیوب پروگرام میں شریک ہوئے جہاں مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں شیشہ اور حقہ پینا عام بات ہے لیکن ہم نے سب بند کر دیا ہے اور یہاں شیشہ کیفے، بارز اور عوام کے بیٹھنے کے لیے مناسب مقامات موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای اور ترکیہ میں جگہ جگہ بارز موجود ہیں جہاں لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارز کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ وہاں وہاں آنے والے تمام افراد شراب نوشی کریں۔
یہ بھی پڑھئیے
دہشت گردوں نے کبھی اس جماعت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا،ڈی جی آئی ایس پی ار – urdureport.com
ایران میں مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں میں شدت ،خمینی کے خلاف بھی نعرے لگ گئے – urdureport.com
پروگرام کے دوران میزبان کی جانب سے شراب نوشی کی اجازت سے متعلق سوال پر فواد چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں شراب نوشی کی اجازت کیوں نہیں دے سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای اور ترکیہ نے شراب نوشی کی اجازت کیوں دی ہے؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جس نے شراب پینی ہے وہ پیے اور جس نے نہیں پینی وہ نہ پیے۔


