وزیر دفاع خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کے خطوط لکھنے والے والے ججو ں کو سخت تبقید کا نشانہ بنایا ہے واضع رہے سپریم کورٹ کے جج جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو 27ویں آئینی ترمیم کے تنا ظر میں خطوط لکھے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بہت کنٹرول کر رہا ہوں خود پر کہ جو جج خط لکھ رہے ہیں کسی دن میڈیا پر بیٹھ کر ان کے ماضی پر بھی نظر دوڑاؤں۔۔ یہ جج سیاستدانوں سے بڑے سیاستدان ہیں، پاکستان کی تاریخ میں ان کے کردار کا بھی بڑا حصہ ہے، گڈ ٹو سی یو پر ان کا ضمیر نہیں جاگتا،،
یہ بھی پڑھیں
انہو ں نے اینکر پر سن عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں اور ایکس پلیٹ فارم پر کہا کہ جب میا ں نواز شریف بحران کا شکار ہوئے تو اس دوران انہو ں نے کن کن لوگوں کو ڈی سیٹ کیا کن کن لوگوں کو ڈس کوالیفائی کیا ایک دن کیا کہا دوسرے دن کیا کہا ،یہ لمبی کہا نی ہے ,مجھے ترغین تو بڑی ہو رہی ہے مگر کنٹرول کر رہا ہوں ۔
وفاقی وزیر نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ ہم سے بڑے سیاستدان ہیں جستس منیر سے آج تک گڈ ٹو سی یو تک ،عدلیہ کی تاریخ دیکھ لیں یہ ہم سے بڑے سیاستدان ہیں ،اس وقت کسی کا ضمیر نہیں جاگا تھا،یہ دوہرا معیار ہے۔ہمیں کہتے ہیں ہم فرشتے بن جا یں ہم نہیں فرشتے بن سکتے یہ انسانی طور پر ممکن نہیں۔
استثنا جو پارلیمنٹ دے رہی اس پہ اعتراض ھے۔ خط لکھے جا رہے ھیں۔ عدلیہ کی restructuring جسمیں انکی آزادی پہ کوئ قدغن نہیں لگائی جا رہی اختیارات کوئ اور ادارہ نہیں لے رہا۔اس پہ objections ہیں۔ جسٹس منیر سے لیکر نسیم حسن شاہ اور ارشاد حسن خان اور پانامہ جج صاحبان نے جو جرائم کیے کیا خط لکھنے والوں کو اپنے ادارے کی تاریخ یاد نہیں یا وہ selective amnesia کے مریض ھیں۔
عدلیہ نہ صرف بھٹو کو پھانسی دی بلکہ آئین کےا قتل عام کے بار بار مرتکب ھوئے۔ ایک خط لکھنے والے جج کی قانون اور آئین کی پاسداری تاریخ میں ذاتی طور پہ جانتا ھوں۔ He who seeks equity must do equity” اپنے گریبانُ میں پہلے جھانکیں فیر چٹھیاں پاؤ وزارت جنرل مشرف کی کرنی اور آئین کے مامے بن کر خط لکھنے

