بنگلہ دیش کے جس انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنانے کا حکم صادر فرمایا آج کل شیخ حسین واجد انہی ٹربیونل کو کینگرو کورٹس کے نام سے یاد کرتی ہیں۔
انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونلز کو 1971 کے ملزمان کو سزائیں سنا نے کے لیے بنایا گیا اور سیاسی مخالفین کے خلاف اس کا خوب استعمال کیا گیا جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماوں کو پھانسیاں دی گئیں لیکن وقت کا دھارا بدلا اور بنگلہ دیش کی طاقتور وزیر اعظم شیخ حسین واجد خود اپنے پھیلائے ہوئے جال مین پھنس گئیں۔
حسینہ واجد بنگلہ دیش کے قوم پرست رہنما شیخ مجیب الرحمان کی صاحبزادی ہیں، جنھیں بنگلہ دیش کا ’بنگلہ بندھو‘ یعنی ’بابائے قوم‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں ہی بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہوا تھا اور وہ 1971 میں ملک کے پہلے صدر بنے تھے۔اجلکل اسی بنگلہ بندھو کے مجسموں کو بنگالی نوجوانوں نے تباہ کر نا اپنا فرض عین سمجھا ہوا ہے۔

بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی سیاسی جانشین اور کئی دہائیوں تک بنگلہ دیش کے سیاسی اُفق پر راج کرنے والی شیخ حسینہ کا گذشتہ برس اگست میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے بعد زوال شروع ہوا اور اُنھیں پناہ کے لیے انڈیا کا رُخ کرنا پڑا جہا ں وہ اجکل جلا وطنی کی زندگی بسر کر نے پر مجبور ہیں۔
شیخ حسینہ دو مرتبہ بنگلہ دیش کی وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئیں۔ وہ پہلی مرتبہ سنہ 1996 سے 2001 تک وزیرِ اعظم رہیں۔ بعدازاں وہ سنہ 2009 سے سنہ 2024 تک اس منصب پر فائز رہیں۔ان پر گذشتہ سال طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دینے کا الزام تھا، ان مظاہروں کے دوران 1400 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔
یہ فیصلہ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے جج جسٹس محمد غلام مرتضیٰ مجمدار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا ہے۔یہ ٹربیونل پہلی بار معزول عوامی لیگ کی حکومت کے دوران 1971 میں انسانیت کے خلاف جرائم کی سماعت کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ مگر اس بار ٹربیونل کی تشکیل 5 اگست 2024 کو عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کی گئی تھی۔
معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے 2010 میں بنگلہ دیش کا انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) پاکستان کے خلاف آزادی کی جنگ کے دوران ہونے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے قائم کیا تھا۔یہ وہی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل تھا جس کو حسینہ واجد نے خود بنایا ،اور آج اس ٹربیونل نے ان کو سزائے موت سنائی اور اب وہ خود انہی کو کینگرو کورٹس کے نام سے پکارتی ہیں۔
شیخ حسینہ نے ڈھاکہ عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’متعصبانہ اور سیاسی بنیادوں‘ پر سنایا جانے والا فیصلہ قرار دیا ہے۔ شیخ حسینہ کا کہنا تھا ان کے خلاف ’کینگرو کورٹ‘ کو سیاسی مخالفین کنٹرول کر رہے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں عدالتی کارروائی کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
حسینہ واجد کو سزائے موت،عدالت میں تالیوں کی گونج – urdureport.com
گریٹر بنگلہ دیش نقشہ انڈیا کے ٹکڑے شامل؟محمد یونس کا جنرل ساحر شمشاد کو تحفہ – urdureport.com
حسینہ واجد کی حکمرانی میں کرائم ٹریبونل نےاب تک 100 سے زائد لوگوں کو موت کی سزا سنائی، جن میں ان کے کئی سیاسی مخالفین بھی شامل تھے۔
بنگلہ دیش میں اس کیس کے لیے قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ، سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال اور سابق آئی جی پولیس عبداللہ المامون کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ثابت ہوچکے ہیں۔

