خپلو ایک ایسا مقام ہے جہاں تاریخ، فطرت اور ثقافت ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک دلکش داستان تخلیق کرتے ہیں۔ اگر آپ شمالی پاکستان کا سفر کریں تو سکردو کے ساتھ ساتھ خپلو کی سیر کرنا نہ بھولیے، یہ تجربہ آپ کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔گلگت بلتستان کی حسین وادی گانچھے میں واقع خپلو ایک ایسا مقام ہے جو تاریخ، ثقافت اور قدرتی حسن کا انمول
خزانہ رکھتا ہے۔ یہ بلتستان کا دوسرا بڑا قصبہ ہے اور سطحِ سمندر سے تقریباً 2,600 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ شفاف ندیاں، بلند پہاڑ اور قدیم طرزِ تعمیر یہاں آنے والے ہر سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
خپلو کی سب سے نمایاں پہچان خپلو پیلس ہے، جو تقریباً دو سو سال پرانا شاہی محل ہے۔ اسے "یورپ کے تبتی طرزِ تعمیر” کی جھلک کہا جاتا ہے۔ آج یہ پیلس ایک میوزیم اور ہوٹل کے طور پر محفوظ ہے، جہاں آنے والے سیاح بلتی ثقافت اور تاریخ کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔ لکڑی اور پتھر سے بنی یہ عمارت بلتستان کی انفرادیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اس قصبے کی خوبصورتی صرف محلات تک محدود نہیں، بلکہ اردگرد کے قدرتی مناظر بھی دل موہ لینے والے ہیں۔ شیوکھ دریا کا نیلگوں پانی، پہاڑوں کی خاموشی اور وادی کے سبزہ زار ایک پر سکون ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں سے مشہور "مشہ بروم” چوٹی کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے، جو دنیا کی سب سے خوبصورت برف پوش پہاڑوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔
خپلو میں صوفیائے کرام اور بزرگوں کے مزارات بھی واقع ہیں، جنہوں نے صدیوں پہلے یہاں اسلام کا پیغام عام کیا۔ اس وجہ سے یہ وادی روحانی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ مقامی لوگ اپنی مہمان نوازی، خلوص اور سادگی کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے دل جیت لیتے ہیں۔
کھانوں کی بات کی جائے تو بلتی کھانے جیسے "چپسو”، "پھتی” اور مقامی جڑی بوٹیوں سے بنی چائے سیاحوں کو ایک الگ ذائقے سے روشناس کراتی ہیں۔ خشک خوبانیاں اور اخروٹ یہاں کے تحائف میں شامل ہیں۔

