تاریخ، ثقافت اور موجودہ اہمیت کا درہ
خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں واقع درہ خیبر پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ایسا تاریخی درہ ہے جو صدیوں سے برصغیر اور وسطی ایشیا کو ملانے والا مرکزی راستہ رہا ہے اور اس كی تاریخی اہمیت ہے۔۔ یہ درہ نہ صرف جغرافیائی بلکہ عسکری اور ثقافتی اعتبار سے بھی دنیا کے مشہور ترین دروں میں شمار ہوتا ہے۔ اور صدیوں سے یہ درہ حملہ آوروں كا راستہ بنا رہا۔
تارخی درہ خیبر كی اہمیت كا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سكتا ہے كہ یہ نہ صرف فاتحین اور سپاہیوں کی داستانیں سناتا ہے بلکہ تجارت، ثقافت اور تعلقات کے تسلسل کی علامت بھی ہے۔ آج کے دور میں اس کی اہمیت صرف تاریخی نہیں بلکہ اقتصادی اور سیاسی طور پر بھی خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہے۔
دنیا کا یہ مشہور درّہ خیبر پشاور سے 11 میل کے فاصلے پر یہاں بنے تاریخی دروازے باب خیبر سے شروع ہوتا ہے اور یہاں سے اندازاً 24 میل یعنی طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد پر ختم ہوتا ہے جہاں سے لوگ ڈیورنڈ لائن عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔
تحصیل جمرود میں بنے اس دروازے سے درّہ خیبر کی اہمیت اجاگر ہو جاتی ہے۔ سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور حکومت میں یہ دروازہ بنایا گیا۔ جون 1963 میں مکمل ہونے والے اس دروازے کی تعمیر اس وقت کے کیمبل پور اور آج کے اٹک کے دو مستریوں گاما مستری اور اُن کے بھتیجے صادق مستری نے کی۔یہ تعمیر تقریباً دو سال میں مکمل ہوئی۔ اس دروازے پر مختلف تختیوں پر ان حکمرانوں اورحملہ آوروں کے نام نصب ہیں جنھوں نے اس راستے کو استعمال کیا۔
اس دروازے کے قریب بحری جہاز نما قلعہ سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے تعمیر کروایا تھا تاکہ درہ خیبر پر نظر رکھنے کے لیے فوجی یہاں رکھے جا سکی۔
جغرافیائی خصوصیات
خیبر پاس تقریباً 53 کلومیٹر طویل ہے اور اوسطاً 1,070 میٹر (3,510 فٹ) سمندر کی سطح سے بلند ہے۔ یہ درہ پشاور کو افغانستان کے شہر جلال آباد اور پھر کابل سے جوڑتا ہے۔ اس کے اطراف میں بلند پہاڑ اور تنگ راستے ہیں جو اسے قدرتی دفاعی حصار فراہم کرتے ہیں۔ یہ درّہ یہاں کے لوگوں کے لیے جنگی لحاظ سے ایک ایسا قدرتی حصار ہے جسے دنیا کے کسی جنگی ہتھیار سے فتح نہیں کیا جا سکتا۔
اس کا سب سے خطرناک حصہ تاریخی علی مسجد کا مقام ہے جہاں پر یہ درّہ اتنا تنگ ہوجاتا ہے کہ اس کی چوڑائی صرف چند میٹر رہ جاتی ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں کی پہاڑی چوٹیوں پر چھپے چند قبائل بھی سینکڑوں فٹ نیچے راستے سے گزرنے والے ہزاروں فوجیوں کے لیے قیامت بپا کرتے تھے اور اُنھیں زچ کرکے پسپا ہونے پر مجبور کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ اُنھیں لاشیں اٹھانے کے لیے بھی ان قبائل کی بات ماننی پڑتی تھی۔
تاریخی پس منظر
خیبر پاس تاریخ کے ہر دور میں غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔
- سن 326 قبل مسیح میں برصغیر پر قدم رکھنے والے مقدونیہ کے فاتح سکندرِ اعظم کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ درہ خیبر کے راستے برصغیر میں داخل ہوا، تاہم مختلف مؤرخین اور ماہرین اس پر اختلافی رائے رکھتے ہیں۔
- سابق برطانوی گورنر اور مؤرخ سر اولف کیرو نے اپنی کتاب ’پٹھان‘ میں دعویٰ کیا کہ سکندر پشاور میں داخل نہیں ہوسکا بلکہ اس نے آج کے باجوڑ کے علاقے نواگئی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق سکندر نے یوسف زئی اور گوریز نامی دریا عبور کیے جن کے درمیان ایک چشمہ واقع تھا، جو موجودہ پنج کوڑہ کے بالائی حصے کے قریب ہے جہاں آج ڈیورنڈ لائن گزرتی ہے۔
- بی بی سی کی ایک رپورٹ میں پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی، جو ضلع اورکزئی میں گورنمنٹ ڈگری کالج غلجو کے پرنسپل ہیں اور یہاں کی تاریخ پر اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ سکندر کی فوجوں کو سب سے زیادہ مزاحمت درۂ خیبر کے مقام پر آفریدی قبائل کی طرف سے ملی۔ ان کے مطابق یہی مزاحمت سکندر کے راستہ بدلنے کی بڑی وجہ بنی۔
- روایات کے مطابق سکندر کی والدہ نے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بیٹے کو نصیحت کی کہ درۂ خیبر کے راستے ہندوستان جانے کا ارادہ ترک کر دے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب آفریدی قبائل کے سرداروں کو سکندر کی والدہ کے سامنے بلایا گیا تو ہر ایک نے خود کو سردار قرار دیا اور کوئی بھی دوسروں کی قیادت ماننے پر تیار نہ ہوا۔ سکندر کی والدہ نے اس منظر سے نتیجہ اخذ کیا کہ جو لوگ اپنے ہی قبیلے میں کسی کو بڑا ماننے پر تیار نہیں، وہ سکندر کی عظمت کو کیسے تسلیم کریں گے۔
- یوں تاریخ کے اس عظیم فاتح کو اپنی ماں کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے درۂ خیبر کا راستہ ترک کرنا پڑا اور وہ باجوڑ کے راستے اپنی مہم کو آگے بڑھانے پر مجبور ہوا۔

- ہخامنشی، یونانی، ساکا، کوشانی اور منگول حملہ آور اسی راستے سے ہندوستان میں داخل ہوئے۔
- مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے 16ویں صدی میں خیبر پاس کے راستے ہندوستان میں داخل ہو کر مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔
- برطانوی دور میں اس درے کو دفاعی اعتبار سے سب سے اہم سمجھا گیا۔ جمرود قلعہ اور متعدد چیک پوسٹیں تعمیر کی گئیں جبکہ ’’خیبر رائفلز‘‘ کے نام سے ایک عسکری فورس بھی قائم کی گئی۔
- ایک تاریخی جمرود قلعہ سیاحوں کے لیے ایک اہم جگہ ہے۔ سکھ فوج کے لیے جمرود کئی لحاظ سے اہم تھا کیونکہ یہاں افغانستان سے آنے والے حملہ آوروں کا راستہ روکا جاسکتا تھا اور یہاں سے افغانستان پر آسانی سے حملے کیے جاسکتے تھے۔ جمرود قلعہ کی تعمیر 1836ء میں سکھ جرنل ہری سنگھ نلوہ نے محض 54دنوں میں چھ ہزار فوجیوں کے ذریعے کروائی۔ اس کا نقشہ قلعہ بالاحصار سے مماثلت رکھتا ہے کیونکہ اس کی مرکزی عمارت کے اطراف بھی حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔ اس قلعے کا نام ویسے تو ’فتح گڑھ‘ رکھا گیا تھا مگر یہ آج تک علاقے کے نام ’جمرود‘ سے ہی پہچانا جاتا ہے۔قلعے کی نگرانی اور انتظام خیبر رائفلز کے پاس ہے۔

تجارتی اور ثقافتی مرکز
قدیم زمانے میں تاریخی درہ خیبر شاہراہِ ریشم کے ساتھ جڑا ہوا تھا اور وسط ایشیا سے برصغیر کی تجارت اسی راستے سے ہوتی رہی۔ یہاں سے گھوڑے، ریشم، مصالحہ جات اور قیمتی پتھر برصغیر میں لائے جاتے جبکہ ہندوستانی مصنوعات افغانستان اور وسط ایشیا پہنچائی جاتیں۔
آج کے دور میں بھی یہ درہ خیبر پاک۔افغان تجارت کا مرکزی راستہ ہے جہاں تورخم بارڈر تجارتی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
موجودہ صورتحال
پاکستان نے حالیہ برسوں میں خیبر پاس پر جدید سڑکیں اور سیکورٹی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں۔ پاک۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا بڑا حصہ اسی راستے سے ہوتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں دہشت گردی اور اسمگلنگ کی وجہ سے یہ علاقہ غیر محفوظ رہا، تاہم اب اس پر سخت نگرانی کی جاتی ہے اور یہ راستہ خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ایک کلیدی مقام رکھتا ہے۔
سیاحت اور دلچسپ پہلو
خیبر پاس اپنی تاریخی اور قدرتی خوبصورتی کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
- جمرود قلعہ، علی مسجد اور لنڈی کوتل یہاں کے مشہور مقامات ہیں۔
- مقامی قبائل کی ثقافت، موسیقی اور مہمان نوازی اس علاقے کی منفرد پہچان ہے۔
- علی مسجد علی مسجد خیبر پاس کی سب سے نمایاں اور تاریخی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ مسجد جمرود سے تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر خیبر پاس کے وسط میں ایک بلند مقام پر دریائے خیبر کے کنارے واقع ہے۔ مسجد کا نام حضرت علیؓ کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ صدیوں سے قبائلی علاقوں کے قافلوں اور مسافروں کے لیے روحانی اور سماجی مرکز کی حیثیت رکھتی آئی ہے۔ برطانوی دور میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی اور 1878ء کی دوسری افغان جنگ کے دوران یہاں "علی مسجد کی لڑائی” لڑی گئی، جس نے اس مقام کو تاریخ میں مزید اجاگر کر دیا۔ مسجد کے قریب ایک چشمہ بھی موجود تھا جس سے مسافر پانی پیتے اور آرام کرتے تھے۔ آج بھی یہ مسجد اپنی تاریخی عظمت اور روحانی اہمیت کے باعث سیاحوں اور مقامی قبائل کے لیے خاص کشش رکھتی ہے، جبکہ اردگرد کے پہاڑ اور قدرتی مناظر اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
- جبكہ لنڈی کوتل بازار پاک افغان سرحد پر واقع ایک سیاحتی مقام کی حیثیت سے مشہور ہے جہاں سڑک اور ریل کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے، انگریز دور حکومت میں بچھائی گئی ریل کی پٹڑی جو متروک ہو چکی تھی اب پھر سے فعال کر کے اس پر “خیبر سفاری ٹرین“ کے نام سے سیاحتی ریل چلائی جاتی ہے، جس کی منزل لنڈی کوتل ہے۔ پاک افغان سرحد جسے ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے یہاں سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ لنڈی کوتل نہ صرف سیاحتی مقام بلکہ یہاں آباد آفریدی اور شنواری قبائل کے لیے تجارتی مرکز کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔


بدھ مت کے بڑے آثار
معروف صحافی اللہ بخش یوسفی اپنی مشہور کتاب تاریخ آفریدی میں لکھتے ہیں کہ درّہ خیبر کے علاقے میں بڑی تعداد میں بدھ مت سے متعلق بہت زیادہ آثارِ قدیمہ نمودار ہوئے تاہم اپنے اعتقادات کی بدولت پختون ان مورتیوں کے خلاف تھے اور اُنھیں توڑ دیا کرتے تھے۔
اسی علاقے میں لنڈی خانہ کے قریب ایک پہاڑ پر عہد قدیم کی ایک قلعہ نما عمارت ہے جسے یہاں کےآفریدی ’کافر کوٹ‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
سیکیورٹی اور عالمی سیاست میں کردار
خیبر پاس نے افغان جنگ، طالبان دور اور نائن الیون کے بعد عالمی سیاست میں ایک اہم حیثیت اختیار کر لی۔ یہ درہ آج بھی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور خطے کی سیکیورٹی حکمتِ عملی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

