• Home  
  • سست بارڈر: پاک چین دوستی کا دروازہ
- سیاحت

سست بارڈر: پاک چین دوستی کا دروازہ

سست بارڈر صرف ایک جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ یہ دو قوموں کی قربت، تعاون اور اعتماد کی روشن مثال ہے۔ اگر آپ قراقرم ہائی وے کا سفر کر رہے ہیں تو سست بارڈر تک ضرور جائیں، کیونکہ یہ مقام نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہمیشہ دل میں نقش […]

سست بارڈر صرف ایک جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ یہ دو قوموں کی قربت، تعاون اور اعتماد کی روشن مثال ہے۔ اگر آپ قراقرم ہائی وے کا سفر کر رہے ہیں تو سست بارڈر تک ضرور جائیں، کیونکہ یہ مقام نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہمیشہ دل میں نقش رہتا ہے۔

شمالی پاکستان کی بلند و بالا پہاڑیوں کے درمیان واقع سست بارڈر نہ صرف ایک جغرافیائی مقام ہے بلکہ پاک۔چین دوستی کی ایک زندہ علامت بھی ہے۔ یہ مقام سطحِ سمندر سے تقریباً 4,700 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور قراقرم ہائی وے کے آخری سرے پر پاکستان کا آخری قصبہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پہنچنے والا ہر مسافر محسوس کرتا ہے کہ وہ دنیا کی چھت پر کھڑا ہے، جہاں بادل ہاتھوں کو چھوتے ہیں اور برف پوش چوٹیوں کا جلال دل کو شجاعت سے بھر دیتا ہے۔

سست بارڈر کو "پاک۔چین گیٹ وے” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان زمینی تجارت اور آمد و رفت کا سب سے اہم راستہ ہے۔ یہاں ایک جدید کسٹمز اور امیگریشن کمپلیکس موجود ہے، جو قراقرم ہائی وے سے آنے والے ٹرکوں، مسافروں اور تاجروں کی سرگرمیوں کو منظم کرتا ہے۔ سی پیک (CPEC) کے بعد اس مقام کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے اور اب یہ صرف ایک بارڈر نہیں بلکہ مستقبل کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز مانا جا رہا ہے۔

قدرتی حسن کے اعتبار سے بھی سست بارڈر اپنی مثال آپ ہے۔ اردگرد کے پہاڑ، برف سے ڈھکے ہوئے دلفریب مناظر اور قراقرم ہائی وے کے بل کھاتے راستے یہاں کے سفر کو ناقابلِ فراموش بنا دیتے ہیں۔ خاص طور پر موسم گرما میں جب پھول کھلتے ہیں اور سبزہ پہاڑوں کو ڈھانپ لیتا ہے تو یہ خطہ کسی جنت سے کم نہیں لگتا۔ سردیوں میں البتہ یہ مقام برف کی دبیز تہوں تلے چھپ جاتا ہے اور بارڈر کئی ماہ کے لیے بند رہتا ہے۔

سیاحوں کے لیے سست بارڈر ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ یہاں پہنچ کر وہ نہ صرف دنیا کے بلند ترین سرحدی دروازوں میں سے ایک کو دیکھتے ہیں بلکہ پاک۔چین دوستی کی علامت بنے یادگاری دروازے کے ساتھ تصاویر بھی بناتے ہیں۔ بہت سے سیاح اسے اپنی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ قرار دیتے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں