سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے شیخ صالح الفوزان کو سعودی عرب کا مفتی اعظم مقرر کر دیا ہے۔مفتی اعظم سعودی عرب کی مملکت میں اعلیٰ ترین مذہبی اور عدالتی عہدہ ہے۔ ان کا تقرر شاہی فرمان کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
شیخ الفوزان کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق وہ 28 ستمبر القاسم کے قصبے الشمسیہ کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھون نے اسلامی فقہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور وراثت کے قانون میں مہارت حاصل کیا اس کے بعد انھوں نے اسلامی فقہ میں اعزاز کے ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہاں ان کے مقالے کا عنوان ’اسلامی قانون میں خوراک کی فراہمی۔‘ تھا
یہ عہدہ 1953 میں شاہ عبدالعزیز آل سعود کے جاری کردہ ایک فرمان کے ذریعے قائم کیا گیا تھا جس میں شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ کو مملکت کا مفتی مقرر کیا گیا تھا۔
جبکہ کونسل آف سینئر سکالرز اور مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق اور افتا کے سربراہ کے طور پر ان کو تعینات کیا جاتا ہے۔ شاہی فرمان کے مطابق صالح الفوزان سینیئر سکالرز کی کونسل کے چیئرمین اور وزیر کے عہدے کے ساتھ ادارہ برائے علمی و سائنسی تحقیق و افتا (جنرل پریزیڈنسی آف سائنٹیفک ریسرچ اینڈ افتا) کے صدر مقرر کیے گئے ہیں۔
شیخ صالح الفوزان مملکت کے چوتھے مفتی اعظم ہیں۔ اس فیصلے کا اعلان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی تجویز پر کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ رواں برس 23 ستمبرکو سعودی عرب کے مفتی اعظم اور سینیئر علما کونسل کے سربراہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ 20 سال تک اس عہدے پر فائز رہنے کے بعد وفات پا گئے تھے۔

