پاکستان کو سمندری پانیوں میں تیل و گیس کی دریافت کے سلسلے میں 53 ہزار 500 مربع کلومیٹر پر محیط 23 بلاکس کی کامیاب بولیاں موصول ہوئی ہیں یہ بولیاں دو دہائیوں بعد ملیں اور بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
ملک کی پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 20 سال بعد پاکستان کے آف شور تیل و گیس ذخائر میں ’بڑی کامیابی ہوئی ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق لائسنسز کے پہلے مرحلے میں اس دریافت کے لیے تقریباً 80 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی اور ڈرلنگ کے دوران یہ سرمایہ کاری ایک ارب امریکی ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے۔
واضع رہے کہ رواں سال اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان پاکستان کے تیل کے وسیع ذخائر نکالنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ’ہم آئل کمپنی کا انتخاب کرنے کے عمل میں ہیں جو اس پارٹنرشپ کو لیڈ کرے گی۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’کون جانتا ہے، شاید وہ کسی دن انڈیا کو تیل بیچ رہے ہوں گے۔‘
یہ بھی پڑھیں
پاکستان روس کا تیل و گیس کے شعبوں میں مل کر کام کر نے کا عزم – urdureport.com
گذشتہ برسوں کے دوران پاکستان میں تیل اور گیس کی مقامی پیداوار میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے بیرون ملک سے ان مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ ہوا تھا۔
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق اب آف شور تیل و گیس کے 23 بلاکس کی کامیاب بولیاں موصول ہوئی ہیں۔ ’کامیاب بڈنگ راؤنڈ پاکستانی معیشت کے لیے بہترین ثابت ہو گا۔‘
’انڈس اور مکران بیسن میں بیک وقت ایکسپلوریشن کی سٹریٹیجی پاکستان کے لیے کامیاب رہی۔ کامیاب بولیاں تقریباً 53,510 مربع کلومیٹر کا رقبہ پر مشتمل ہیں۔‘

