وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے انکشاف کیا کہ 200 یونٹس سے کم والے صارفین میں پچھلے دو تین سالوں میں 90 لاکھ سے بڑھ کے دو کروڑ دس لاکھ تک پہنچ چکے ہیں۔
مجوزہ نئی سولرپالیسی کے تحت صارف اگر صرف 40فیصد بجلی خود استعمال کرے اور باقی آگے بیچ دے تو بھی ساڑھے تین سال میں اسے سرمایہ کاری کے پیسے واپس مل جائیں گے،وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری pic.twitter.com/riotNZOnhF
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) February 8, 2026
انہوں نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک پیمانہ رکھا ہوا ہے کہ دو سو یونٹس سے کم استعمال کر نے والا غریب ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کچھ لوگوں نے نیٹ میٹرنگ کے بغیر ہمت کی اپنے گھروں میں دو چار سولر سسٹم لگا لیے جس وہ سے ان کی بجلی کی کھپت میں کمی آئی۔
انہوں نے کہا کہ آج اپ سات سو یونٹ والے صارفین کو دیکھیں اگر وہ اگر چودہ لاکھ روپے کا سسٹم لگاتا ہےتو وہ 200 یونٹس سے کم میں آجاتا ہے جس وجہ سے وہ 70 فیصد ڈسکاونٹ کا اہل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے صارفین کو ستر فیصد ڈسکاونٹ ریاست اور ہمارا ملک برداشت نہیں کر سکتا۔سات سو یونٹس استعمال کرنے والا اس غریب ترین طبقے میں شامل نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان صارفین کا بوجھ بھی ہم پر پڑا جس وجہ سے ہم آج ساڑھے چار سو ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں جس میں ایک سو روپے کی سبسڈی انڈسٹری دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی ہم نے ٹیرف کو ری سٹریکچر کر کے دیکھنا ہے اگلے ماہ کے بل میں یہ سامنے آئے گی،
انہون نے کہا کہ سولر ریگولیشنز جو نئی ہم لے کر آرہے ہیں وہ پاکستان میں سب سے اچھی سرمایہ کاری ہو گی،اگر سولر نیٹ میٹرنگ والا بجلی ایکسپورٹ کیے بغیر خود استعمال کر تا ہے تو ڈیڑھ سال میں اپنا پیسہ پورا کر ئے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر نئی ریگولیشنز میں وہ 40 فیصد بجلی استعمال کرتا ہے اور باقی ایکسپورٹ کرتا ہے تو ساڑھے تین سال میں اس کا پیسہ پورا ہو گا۔آج کے حالات مین اگر 27 روپے پے بیک ہو تو ڈیڑھ سے دوسال میں پورا کر لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئَ سولر قوانین نئے صارفین کے لیے ہوں گے جو کنٹریکٹ ذمہ داریاں اٹھائی تھیں وہ اسی طرح ہی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ نئَ ریگولیشنز میں صارف نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کے اوپر آئے گا۔اپ سے یونٹس 27 روپے پر ہی خریدے جایں گے ،لیکن ان کے یونٹس نیٹ آف نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم 27 روپے میں اپ کو بیچ رہے ہیں تو 44روپے میں کیو ں خریدیں تو اس پر 44 روپے فی یونٹ کی بجلی پر نیشنل ٹرانسمیشن ،تنخواہیں اور دیگر اخراجات بھی آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت میٹر کے پیچھے 19000 میگا واٹ کا سسٹم لگ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزید سبسڈی کی مزیکل سپیس ہی ہمارے پاس نہیں ہے،لیکن ہم چیزوں کو استدلالی طریقے سے ضرور دیکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹیرف میں کپیسٹی چارج کا فکسڈ اماونٹ چھ سے سات فیصد ہے۔ہماری کوشش ہے کہ فکسڈ اماونٹ میں ٹیرف کا سٹریکچر کچھ زیادہ کر کے فی یونٹ کی کاسٹ کو کم کریں۔
انہون نے کہا کہ ہم انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی بارئے 63 روپے سے سوا چھالیس روپے پر تو اچکے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ ان کے خدشات جو بھی تھے۔
انہوں نے کہا کہ جو وزیر اعظم نے ابھی کم کیا یہ کراس سبسڈی کا خاتمہ ہےیعنی انڈسٹری جو صارفین کا بوجھ اٹھارہی تھی جو اس کو نہیں اٹحانا چاہیے تھاوہ اب نہیں اٹھائے گی اور یہ مستقل حل ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


