سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس اور شہری کے تعلق سے متعلق ایک تاریخی اور اہم فیصلہ سنایا ہے جس میں نوآبادیاتی (غلامانہ) سوچ کو مسترد کرتے ہوئے عوامی وقار کو مقدم رکھا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا ہے کہ پولیس کو دی جانے والی درخواستوں میں اب “بخدمت جناب SHO” لکھنا ممنوع ہوگا۔ عدالت کے مطابق SHO عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں۔ آئندہ درخواستوں میں صرف “جناب SHO” لکھا جائے گا تاکہ غلامانہ طرزِ خطاب کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ تاریخی فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، جبکہ جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے اٹھائے گئے نکتے پر عدالت نے واضح اور عملی ہدایات جاری کیں۔ فیصلے میں پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاستی رویے میں بنیادی اور عملی تبدیلی ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ نے ایف آئی آر (FIR) سے متعلق اصطلاحات پر بھی واضح ہدایات جاری کیں۔ عدالت کے مطابق FIR درج کروانے والا شہری اب “اطلاع دہندہ” کہلائے گا، نہ کہ شکایت کنندہ۔ اسی طرح “کمپلیننٹ” کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود ہوگی۔
عدالت نے پولیس کارروائی میں “فریادی” کا لفظ استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ “فریادی” کا لفظ رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، جبکہ شہری حق مانگتا ہے، بھیک نہیں۔
سپریم کورٹ نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کو سخت وارننگ دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ FIR میں بلاجواز تاخیر کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف PPC 201 کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے، کیونکہ تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا شدید خدشہ ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ 30 جنوری 2026 کو سنایا گیا اور اسے پاکستان کے عدالتی نظام میں عوامی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک
اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


