الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف الیکشن کمیشن کے عملے کو دھمکانے اور عوام کو اُکسانے کے الزام میں نوٹس لے لیا ہے اور این اے 18ہری پور میں ضمنی انتخاب کے لیے فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی سفارش کردی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع کو لکھے گئے خطوط میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے فعل کی وجہ سے الیکشن کمیشن افسران کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے جلسے میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن افسران کو دھمکی دی تھی جس کا متعلقہ حکام نے نو ٹس نہیں لیا اور ایک مفرور مجرم وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ کھڑا تھا۔
یہ بھی پڑھئیے
عمران خان کی بہنوں پر پو لیس تشدد کا الزام،ٹرک میں بھر کر چکری چھوڑا گیا – urdureport.com
9 مئی کیسز میں سابق گورنرپنجاب عمر سرفرازچیمہ کی ضمانت منظور – urdureport.com
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے لکھا کہ این اے 18 ہری پور میں ضمنی الیکشن میں فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے۔وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی تقریر الیکشن ایکٹ کے خلاف ہے وہ ایک امیدوار کی مہم کا حصہ بنے۔
صوبائی الیکشن کمشنر کو پہلے ہی آئی جی اور چیف سیکریٹری سے ملاقات کی ہدایت دی ہے، اجلاس میں چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس خود بھی شریک ہوں۔
الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی، امیدوار شہرناز عمر ایوب کو 21 نومبر کو طلب کرنے کے نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں۔
اتوار کو این اے 18 ہری پور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں عمر ایوب کی اہلیہ الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

