ملبوسات کی ایک دکان پر بنائی گئی اس ویڈیو میں جیو نیوز کے اینکر پر سن شاہزیب خانزادہ کے ساتھ ان کی اہلیہ اداکارہ رشنا خان موجود تھیں کہ ان کو وہاں پر موجود کچھ افراد کی جانب سے نا منا سب رویے کا سامنا کر نا پڑا ۔
وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’ہم شناخت کریں گے کہ یہ کون آدمی تھا۔‘ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ ویڈیو کہاں ریکارڈ کی گئی ہے۔
جبکہ دوسری جانب شاہزیب خانزادہ کے ساتھ اس سلوک پر کچھ حلقے اس کو جواز بنا رہے ہیں کہ شاہزیب نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف خاور مانیکا کے گھٹیا الزامات اور دیگر پہلوونں پر بھی نا منا سب پروگرام کیے تھَ۔
ویڈیو بنانے والا شخص کیمرے کا رُخ صحافی کی جانب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’آپ کی ویڈیو تو بنانی پڑے گی نا۔ آپ نے جو عمران خان کے خلاف کیا، آپ کو شرم آنی چاہیے۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں۔ تم نے جو عمران خان کی بیوی کے خلاف کیا ہے، اس پر شرم آنی چاہیے۔ میں نے یہ کہا ہے، اور کچھ نہیں کہا۔‘
یہ پڑھئیے
حسینہ واجد کو سزائے موت،عدالت میں تالیوں کی گونج – urdureport.com
اس دوران ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون جو شاہزیب خانزادہ کی اہلیہ ہیں، اس شخص سے کہتی ہیں کہ ’یہ ہراسانی ہے۔‘ اس پر وہ شخص جواب دیتا ہے کہ ’یہ کوئی ہراسانی نہیں۔ ہم بس آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘
نہ صرف کئی صحافیوں کی جانب سے اس ویڈیو کی مذمت کی گئی بلکہ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ایسا رویہ نا قابل قبول ہے ایسے افراد کی شناخت کر کے ان سے نمٹنا چاہیے۔ وہ لوگوں کو پریشان کرتے ہیں جب وہ اپنی فیملی کے ساتھ باہر ہوں۔ یہ اختلاف رائے کے اظہار کا کوئی طریقہ نہیں۔‘
جبکہ دوسری جانب شہباز گل نے شاہزیب خانزاداہ کی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت کے حوالے سے پروگرام شئیر کر دیا ۔

