ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے مظاہرین کی ہلاکتیں جاری رہنے پر ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

کیرولائن لیویٹ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق تمام آپشن بدستور کُھلے رکھے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں 800 افراد کی سزائے موت روکی گئی ہے، اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے۔ دوسری جانب امریکا نے ایران کی بارہ کمپنیوں اور گیارہ ایرانی نژاد پر نئی پابندیاں بھی لگادی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا، یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔
یہ بھی پڑھئیے
ایران پر عنقریب حملہ ہونے والا ہے۔برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کا دعویٰ – urdureport.com
ایران احتجاج 2000 ہلاکتوں کا دعویٰ،امریکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم – urdureport.com
برطانوی روزنامے دی ٹیلی گراف کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عُمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی موخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ’’اچھے عمل‘‘ کا مظاہرہ کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ فی الحال ایران میں قیادت کی تبدیلی کا مرحلہ نہیں آیا۔

