• Home  
  • عالمی یوم شہری ہوا بازی، پاکستان ایوی ایشن اور بحران
- پاکستان

عالمی یوم شہری ہوا بازی، پاکستان ایوی ایشن اور بحران

عبید الرحمن عباسی Globallawsconsultants@gmail.com سات دسمبر عالمی یوم شہری ہوا بازی تھا ، یہ دن گزر گیا لیکن کئی سوال اپنے پیچھے چھوڑ گیا؟… پاکستان سول ایوی ایشن کی 76 سالہ کہانی میں کامیابیاں بھی شامل ہیں اور بحران بھی۔ گزشتہ ایک سال میں پاکستان کی ایوی ایشن نے وہ بڑی قانون سازی اور ریگولیٹری […]

عبید الرحمن عباسی

Globallawsconsultants@gmail.com

سات دسمبر عالمی یوم شہری ہوا بازی تھا ، یہ دن گزر گیا لیکن کئی سوال اپنے پیچھے چھوڑ گیا؟… پاکستان سول ایوی ایشن کی 76 سالہ کہانی میں کامیابیاں بھی شامل ہیں اور بحران بھی۔

گزشتہ ایک سال میں پاکستان کی ایوی ایشن نے وہ بڑی قانون سازی اور ریگولیٹری اصلاحات دیکھیں جو کئی دہائیوں سے نہیں ہوئیں۔ 2023 میں پارلیمنٹ نے PCAA کو دو آزاد اداروں میں تقسیم کر کے پاکستان کو عالمی ایوی ایشن کی درست سمت میں کھڑا کر دیا ہے۔

یہ اصلاحات EU، EASA اور ICAO کے مطالبات کے مطابق تھیں، جن کی غیر موجودگی نے PIA کے برے دنوں اور پاکستان کی عالمی بدنامی کو جنم دیا تھا۔مگر اس اصلاحاتی سفر کی ابتدا 40 سال پہلے ایک تاریخی لمحے سے ہوئی ایک ایسا فیصلہ جس نے سول ایوی ایشن کا مستقبل بدل دیا۔

ڈرامائی آغاز غلام اسحاق خان کا وائٹ ایلیفنٹ اور ضیا الحق کا الٹ فیصلہ: یہ 1982موسم سرما کی ایک دوپہر تھی۔ وفاقی سیکریٹریٹ کے کمرے میں فائلوں کا انبار لگا تھا۔ اس وقت کے طاقتور بیوروکریٹ غلام اسحاق خان سول ایوی ایشن کے ڈھانچے کا جائزہ لے رہے تھے۔

اچانک انہوں نے سخت لہجے میں کہا:یہ شہری ہوابازی کا محکمہ قومی خزانے پر بوجھ ہے ایک white Elephant ھے ! اسے اتھارٹی کا اسٹیٹس نہیں دینا چاہیے۔سمری تیار ہوگئی پاکستان سول ایوی ایشن کو اتھارٹی بنانے کی سفارش مسترد۔لیکن جب سمری صدرِ پاکستان جنرل ضیا الحق تک پہنچی تو فیصلہ پلٹ گیا۔نہیں پاکستان کو ایک مضبوط اور بااختیار سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ضرورت ہے۔

یوں 1982 میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کا قیام ایک آرڈیننس نمبر 30 کے ساتھ عمل میں آیا اور ایئر مارشل میرزا کو پہلا ڈی جی مقرر کیا گیا۔ یہی وہ فیصلہ تھا جس نے پاکستانی ایوی ایشن اتھارٹی کے مستقبل کی بنیاد رکھی۔

اس سے قبل یہ منسٹری اف ڈیفنس کے ماتحت ایک شعبہ کی طرح کام کر رھا تھا۔1982 دے لیکر 2023 تک اس نے بے شمار مدو جزردیکھے ۔اور ایوی ایشن کا نظام چلتا رھا اور اج تک چلایا جا رہا ہے 2023 کی بڑی اصلاحات پاکستان کی ایوی ایشن کا نیا سفر:سال 202324 پاکستان ایوی ایشن کے لئے تاریخی رہا۔

حکومتِ پاکستان نے PCAA کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا:1. پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (ریگولیٹری ادارہ)2. پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA)(ایئرپورٹس کا انتظام)3. آئر کرافٹ انویسٹی گیشن بورڈ (AIB)(حادثات و واقعات کی تحقیقات کا ادارہ)یہ تین اقدامات پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بحال کرنے کے لئے بنیادی شرط تھے۔بین الاقوامی اداروں کا اعتماد 202425 کی بڑی کامیابیاں: ICAO USOAP Score میں بہتری پاکستان کے کئی کمزور شعبے خصوصا لائسنسنگ، میڈیکل، ANS، SMS اب بہتر کیٹیگری میں داخل ہوئے۔ EU اور EASA کی مثبت پیش رفتگزشتہ کئی برس کے بعد پہلی بار EU نے پاکستانی ریگولیٹری اقدامات کو constructive & positive قرار دیا۔EASA نے پاکستان کے SSP اور SMS کو moving in the right direction کہا۔ نئی ایئرلائنز کی دلچسپیخطے کے کئی کمرشل کیریئرز دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے پر غور کر رہے ہیں:Azerbaijan AirlinesFly BaghdadGulf region کے 2 operatorsکئی کارگو کیریئرز وسط ایشیائی اور چینی کارگو کی واپسیکارگو آپریشنز میں اضافہ پاکستان کی معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت ہے۔

پاکستانی ایوی ایشن کے بڑے چیلنجز:گزشتہ 20 سال کی سیاسی مداخلتPIA کا گراونڈنگ بحرانHR کی شدید کمیATCOs، انسپکٹرز، CNS/ATM جیسے ماہرین کا فقدانایئرپورٹس پر پرانا کمرشل ماڈل مالی بحران، زائد بھرتیاں، کم آمدنی ۔کنٹریکٹ اور ڈیپوٹیشن کلچر کی بھر مار۔

آگے کا راستہ سفارشات:1. لائسنسنگ سسٹم مکمل ڈیجیٹل کیا جائے2. ANS کو جدید CNS/ATM ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے3. PAA4. کو ائیرپورٹ سٹی ماڈل پر چلایا جائے4. PIA 5. . اور نجی ایئرلائنز کے لئے مستقل آڈٹ سیل قائم کیا جائے5. ہیومن ریسورس ریفارمز ATCOs، انسپکٹرز اور انجینئرز کی ہنگامی بھرتیاں6. ایوی ایشن پالیسی کو 5 سال کیلئے مستقل بنا دیا جائے پاکستان ایک نئے دور کے دروازے پر:پاکستان ایوی ایشن نے گراوٹ، بحران اور عالمی بے اعتمادی کا مشکل دور دیکھا، مگر اب اصلاحات کے بعد ایک نئے مستقبل کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اگر یہی سمت برقرار رہی تو پاکستان اگلے چند سال میں خطے کی اہم ایوی ایشن طاقت بن سکے گا!!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں