ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایم ڈی سی نے وزیر اعظم کی کمیٹی کے ذریعے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے طلبہ کی فیسوں کو 18 لاکھ سالانہ تک بڑھانے کی منظوری لی جو کہ قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے،عدالتی فیصلوں سے ہٹ کر فیس کو چھیڑا نہیں جا سکتا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں کے معاملے عدالت عظمی کا فیصلہ موجود ہے اس لیے کوئی عدالت عالیہ اس کے خلاف فیصلہ فیس مقرر نہیں کی جا سکتی۔وزارت قومی صحت اور پی ایم ڈی سی پرائیویٹ میڈیکل کالجزکی فیسوں سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد کرانے میں مسلسل ناکام ہو چکے ہیں۔
اس وقت ملک بھر میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے طلبا کا استحصال بری طرح جاری ہےزرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی سالانہ فیس ساڑھے آٹھ لاکھ مقرر کر رکھی ہے جس میں مہنگائی کا عنصر شامل کرنے کے بعد یہ فیس 12 لاکھ روپے سالانہ کے لگ بھگ بنتی ہے
یہ بھی پڑھئیے
نجی میڈیکل کالجز — تعلیم کے نام پر ناپاک کاروبار کا نیا روپ – urdureport.com
پی ایم ڈی سی نے وزیر اعظم کی کمیٹی کے زریعے ان فیسوں کو 18 لاکھ سالانہ تک کی منظوری لی قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہٹ کر پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیس کو چھیڑا نہیں جا سکتا جو ادارہ بھی سپریم کورٹ سے کے فیصلے سے ہٹ کر فیس کی فیصلہ سازی اور نوٹیفکیشن کے اجرا،میں ملوث ہوا ہے پی ایم ڈی سی سمیت سب پر توہین عدالت لگنے کا خدخشہ ہے ۔
ماہرین قانون کے مطابق کوئی ہائی کورٹ بھی سپریم سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف کو اور فیصلہ نہیں کر سکتی ایک سوال یہ ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز نے اسلام ہائی کورٹ سے فیسوں سے متعلق رجوع کر رکھا ہے ماہر قانون نے کہا کہ پی اہم ڈی سی اپنے قانونی ٹیم کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کے متعلقہ جج کو بتانے کی پابند ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں پر سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے۔
ماہر قانون کے مطابق پاکستان کی کسی بھی ہائی کورٹ سے کوئی ایسا فیصلہ نہیں آ سکتا نہ ہی کوئی عدالت فیصلہ دے سکتی ہے جس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہو
ایک سوال پر ماہر قانون نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہٹ کر فیس بڑھانے سے قبل سپریم کورٹ سے پوچھنا ضروری ہے ورنہ اگر طلبا سے کسی بھی طرح اضافی فیس وصول کی گئی وہ آج نہیں تو کل واپس کرنا پڑے گی انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ 2018 کے فیصلے کی روشنی میں اس وقت کی مقرر کردہ سالانہ فیس میں صرف مہنگائی شامل ہو سکتی ہے ورنہ اس سے زیادہ اضافہ کرنے کا اختیار وزیر اعظم کے پاس بھی نہیں ماہر قانون نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ساری ذمہ داری پی ایم ڈی سی کے صدر پر آئے گی۔
کیونکہ اگر پی ایم ڈی سی کو کوئی بھی ادارہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہٹ کر فیس بڑھانے کا کہے تو سپریم کورٹ کے فیصلے سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ماہر قانون نے بتایا کہ سپریم کورٹ ریگولیٹری باڈی سے پوچھ سکتی ہے کیونکہ اس کے فیصلے کی حکم عدولی ہوئی ہے صدر پی ایم ڈی سی کو فیسوں کے معاملے پر ڈپٹی وزیر اعظم سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کے معاملے پر بھی وزیر اعظم کے سیکرٹری کے ذریعے وزیر اعظم کو آگاہ کرنا چاہیئے تھا کیونکہ سپریم کورٹ تو ریکارڈ طلب کرے گی۔
ماہر قانون کے مطابق پی ایم ڈی سی نے اگر ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ کی فیسوں سے متعلق سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کی تفصیلات نہ بتائیں تو پی ایم ڈی سی کا یہ عمل سنگین توہین عدالت کے ذمرے میں آئے گا کیونکہ اس سے قبل بھی وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی ے شک پرائیویٹ میڈیکل کالج اس وقت بھی لوٹ مار کر رہے تھے اور آج بھی کر رہے ہیں پی ایم ڈی سی کا جو کام تھا کونسل نے اس میں ہمیشہ سستی اور غفلت کی احکامات ماننے والے کالجز کی رجسٹریشن منسوخ نہیں کی
اس ضمن میں سپریم کورٹ کے وکیل آئینی ماہر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی عدالتی احکامات کے خلاف طلبہ کی فیسوں کو نہیں بڑھا سکتی، غریب طلبہ کا استحصال نہیں کیا جا سکتا حکومت کو اس ضمن میں فیسوں میں کمی سمیت دیگر رعایات بھی دینی چاہیں تا کہ والدین پر زیادہ بو جھ نہ پڑَے۔

